تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 225
لیکن تعجب ہے کہ بائیبل ایک طرف تو یہ کہتی ہے کہ موسیٰ ؑ کی والدہ نے اپنے بچے کوجھائو میں جاکر چھپادیااوریہ بھی کہتی ہے کہ فرعون کی بیٹی نے بھی اسے جھائو میں سے ہی اٹھایا۔مگردوسری طرف وہ یہ بھی بیان کررہی ہے کہ فرعون کی بیٹی نے ’’اس کانام موسیٰ یہ کہہ کر رکھا کہ میں نے اسے پانی سے نکالا‘‘۔جب موسیٰ پانی میں ڈالاہی نہیں گیاتھابلکہ ایک جھائو میں چھپا کر رکھ دیاگیاتھا اورجب فرعون کی بیٹی نے بھی اسے پانی سے نہیں نکالابلکہ اسے جھائو میں سے اٹھایا تواس کانام موسیٰ ؑ کیوں رکھا گیا۔اوراس نے یہ کیوں کہا کہ میں نے اس کانام موسیٰ اس لئے رکھا ہے کہ میں نے اسے پانی سے نکالاہے۔بائیبل کے اس حوالہ کا آخری فقرہ صاف بتارہاہے کہ موسیٰ ؑ پانی سے نکالاگیاتھا۔جس کے دوسرے لفظوں میں یہی معنے ہیں کہ موسیٰ کی والدہ نے بھی انہیں دریامیں ہی ڈالاتھا۔اوریہی حقیقت قرآن کریم نے بیان کی ہے۔پس قرآن کریم بائیبل کی اس غلطی کو واضح کرتاہے کہ موسیٰ ؑ کوان کی والدہ نے جھائو میں جاکر رکھ دیاتھا اوربتاتاہے کہ انہیں جھائو میں جاکر نہیں رکھا گیابلکہ ایک تابوت میں بند کرکے دریا میں بہادیاگیاتھا۔سوم:۔بائیبل حضرت موسیٰ علیہ السلام پر یہ الزام لگاتی ہے کہ انہوں نے عمداً ایک مصری کومار کرریت میں چھپادیا۔چنانچہ بائیبل کہتی ہے :۔’’جب موسیٰ بڑاہواتو باہر اپنے بھائیوں کے پاس گیا۔اوران کی مشقتوںپر اس کی نظر پڑی اوراس نے دیکھا کہ ایک مصری اس کے ایک عبرانی بھائی کومار رہاہے۔پھر اس نے اِدھر اُدھر نگاہ کی۔اورجب دیکھا کہ وہاں کوئی دوسراآد می نہیں ہے تواس مصری کو جان سے مار کر اسےریت میں چھپا دیا۔پھر دوسرے دن وہ باہر آگیا اوردیکھا کہ دوعبرانی آپس میں مار پیٹ کررہے ہیں۔تب اس نے اسے جس کاقصورتھا کہاکہ تُواپنے ساتھی کوکیوں مارتاہے ؟اس نے کہا تجھے کس نے ہم پر حاکم یامنصف مقرر کیا؟ کیاجس طرح تونے اس مصری کومار ڈالامجھے بھی مار ڈالنا چاہتاہے ؟ تب موسیٰ یہ سوچ کر ڈراکہ بلاشک یہ بھید فاش ہوگیا۔جب فرعون نے یہ سناتوچاہاکہ موسیٰ کو قتل کرے پرموسیٰ فرعون کے حضور سے بھاگ کر ملکِ مدیان میں جابسا۔‘‘ (خروج باب ۲آیت ۱۱تا۱۵) بائیبل کے اس بیا ن میں بعض باتیں قرآنی بیان سے مختلف دکھائی دیتی ہیں لیکن ہرشخص جو معمولی عقل وسمجھ بھی اپنے اندر رکھتاہو دونوں بیانات پر نظر ڈالنے سے فوراً اندازہ لگاسکتاہے کہ ان دونوں بیانات میں سے قرآنی بیان عقلی لحاظ سے صحت اور سچائی کے زیادہ قریب ہے۔مثلاً پہلی با ت تویہی ہے کہ بائیبل کہتی ہے۔جب موسیٰ ؑ نے ایک مصری شخص کو اپنی قوم کے ایک فردسے لڑتے دیکھا تو موسیٰ ؑ نے پہلے ادھر ادھر جھانکا کہ کوئی پولیس مین تونہیں