تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 217 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 217

موسیٰ ؑ سے کہا کہ اے موسیٰ ؑ!سرداران قوم تیرے قتل کرنے کامشورہ کررہے ہیں۔پس میں ایک خیرخواہ کے طور پر تجھے نصیحت کرتاہوں کہ شہر سے بھاگ جا۔اس پر موسیٰ ؑ اسی وقت شہر سے بھاگ گئے۔اورچاروں طرف دیکھتے بھی جاتے تھے کہ میراکوئی پیچھا تونہیں کررہا۔اوردعاکرتے جاتے تھے کہ الٰہی فرعون کی قوم ظالم ہے۔میں دودفعہ دیکھ چکاہوں کہ فرعونیوں کا آدمی ایک اسرائیلی کوقتل کرناچاہتاہے۔پس تُو مجھے ان کے مظالم سے نجات دے اوروہاں سے انہوں نے مدین کارخ کیا۔مدین حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ایک بیٹے کانام تھا جو قتورہ کے بطن سے تھے۔ان کا ذکر بائیبل کی کتاب پیدائش باب۲۵ میں آتاہے۔جہاں لکھا ہے کہ :۔’’ابراہام نے پھر ایک اَوربیوی کی۔جس کانام قطورہ تھا۔اوراس سے زمران ؔ اورلُقیان اور مدانؔ اورمدیانؔ او راسباقؔ اورسُوخ پیداہوئے۔‘‘ (آیت ۱و۲) چونکہ قدیم زمانہ میں اولاد بھی اپنے باپ کے نام سے پکاری جاتی تھی اس لئے مدین سے جونسل پیداہوئی وہ بھی مدین ہی کہلائی اورپھر اس قوم نے جو مرکزی شہربنایااس کانام بھی مدین ہی رکھا۔یہ شہر خلیج عقبہ کے پاس تھا۔یعنی بحیرہ احمر جہاں ختم ہونے لگتاہے وہاں اس کی ایک شاخ مصرکے ساحل کے ساتھ ساتھ چلی جاتی ہے اوردوسری شاخ عرب کے ساحل کے ساتھ ساتھ چلی جاتی ہے۔جوشاخ عرب کے ساحل کے ساتھ ساتھ جاتی ہے اس کو خلیج عقبہ کہتے ہیں۔مدین شہر خلیج عقبہ کے پاس عرب کی طرف سمندر کے بالکل قریب واقعہ تھا۔عرب سے جوقافلے مصر کو جاتے تھے وہ بھی مدین کے راستے سے ہی ہوکرجاتے تھے۔اصل مدین شہرتواب موجود نہیں لیکن اس نام کی کئی بستیاں چھوٹے چھوٹے قصبات کی شکل میں اب بھی وہاںملتی ہیں (اطلس القرآن صفحہ ۹۲ ،۹۳ و تاریخ ارض القرآن اردو جلد دوم صفحہ ۱۱۰،۱۱۱)۔وَ لَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَآءَ مَدْيَنَ قَالَ عَسٰى رَبِّيْۤ اَنْ يَّهْدِيَنِيْ اورجب وہ مدین شہر کی طرف چلا۔تو اس نے کہا۔مجھے امید ہے کہ میرارب مجھے سیدھاراستہ دکھادے گا۔سَوَآءَ السَّبِيْلِ۰۰۲۳وَ لَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدْيَنَ وَجَدَ عَلَيْهِ اورجب وہ مدین شہر کے چشمہ کے پاس آیا۔تواس نے اس پر لوگوں کا ایک گروہ کھڑادیکھا جواپنے جانوروں کو پانی