تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 216 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 216

سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔جس کے ایک معنے فساد کے بھی ہوتے ہیں (لسان العرب)پھر جب انہوں نے یہ سمجھ کر کہ بظاہر حالات میں تودوسراشخص ہی ظالم ہے۔اس دوسرے شخص کو پکڑنے کے لئے قد م اٹھایا تو چونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مونہہ سے اپنی قوم کے آدمی کو کہا تھا کہ توبڑافسادی معلوم ہوتاہے اس نے سمجھا کہ شاید مجھے مارنے کے لئے موسیٰ ؑ آگے بڑھ رہاہے۔اوربے سوچے سمجھے چلّااٹھاکہ اے موسیٰ ؑ! کیاتوچاہتاہے کہ آج مجھے مار دے جس طرح کل تونے ایک اَور شخص کوماراتھا۔تُو کمزور لوگوں کو دباکر اپنی حکومت قائم کرناچاہتاہے۔اوراصلاح تیری نیت نہیں۔جَبَّار اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ایک صفت ہے اوراس کے معنے لوگوں کی حاجات پو ری کرنے والے کے ہوتے ہیں۔لیکن جب کسی غیر اللہ کے متعلق جبّار کالفظ استعمال ہوتو اس کے معنے سرکش اورقانو ن کی خلاف ورزی کرنے والے کے ہوتے ہیں (اقرب)اس کے شو رمچانے پر اردگرد کے لوگوں کومعلوم ہوگیا کہ موسیٰ ؑ ہی پہلے دن یعنی رات کے پہلے حصہ میں ایک شخص کو مار چکے ہیں۔اور چونکہ وہ مقتول فرعونی قوم کا تھا۔جس طرح آج کا حملہ آو ربھی فرعونی قوم کاتھا۔اس لئے یہ خبر شہر میں آگ کی طرح پھیل گئی اورفرعونیوں میں جوش پیداہوگیا۔وَ جَآءَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِيْنَةِ يَسْعٰى ١ٞ قَالَ يٰمُوْسٰۤى اوراس وقت ایک شخص شہر کے دور کے حصہ سے دوڑتاہواآیا۔اورکہا اے موسیٰ (ملک کے )رؤساء مشور ہ اِنَّ الْمَلَاَ يَاْتَمِرُوْنَ بِكَ لِيَقْتُلُوْكَ فَاخْرُجْ اِنِّيْ لَكَ مِنَ کررہے ہیں کہ تجھے قتل کردیں۔پس (میری بات سن اور )اس شہر سے نکل جا۔میں تیرے خیر خواہوں میں سے النّٰصِحِيْنَ۰۰۲۱فَخَرَجَ مِنْهَا خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ١ٞ قَالَ ہوں تب وہ اس شہر سے ڈرتے ہوئے نکل گیا۔اوروہ ہوشیاری سے اِدھر اُدھر دیکھتاجاتاتھا۔اس وقت ا س نے رَبِّ نَجِّنِيْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَؒ۰۰۲۲ دعاکی اورکہا اے میرے رب! مجھے ظالم قوم سے نجات دے۔تفسیر۔تب ایک شخص شہر کے دوسرے علاقہ سے دوڑتاہواآیا۔جہاں یہ خبر پہلے پہنچ گئی تھی اوراس نے