تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 213
لِّلْمُجْرِمِيْنَ۰۰۱۸ عرض کی اے میرے رب ! چونکہ تونے مجھ پرانعام کیا ہے میں بھی کبھی مجرموں میں سے کسی مجرم کی مدد نہیں کروں گا۔حلّ لُغَات۔وَکَزَ: وَکَزَہٗ کے معنے ہیں دَفَعَہٗ۔اس کوہٹایا۔وَکَزَ فُلَانًا کے معنے ہیں۔ضَرَبَہٗ بِجُمْعِ الْکَفِّ۔مٹھی بھینچ کر اس کو مارا۔وَقَالَ الْکِسَائِیُّ : ’’ وَکَزَہٗ لَکَمَہٗ ‘‘۔کسائی کہتے ہیں کہ وَکَزَ کے معنے ہیں مکا مارا۔ظَھِیْر۔اَلظَّھِیْرُ کے معنے ہیں اَلْمُعِیْنُ مددگار۔(اقرب) تفسیر۔یہ آیات حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی کے ایک اہم واقعہ کو بیان کرتی ہیں۔مگریہ یاد رکھنا چاہیے کہ اس جگہ ترتیب زمانی کا ذکر نہیں کیونکہ قرآن کریم کی دوسری آیات سے پتہ لگتاہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بعثت مدین سے واپسی کے وقت ہوئی۔لیکن یہ واقعہ جو اس آیت میں بتایاگیا ہے مدین جانے سے پہلے کاہے۔پس اس جگہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی کے ایک اہم واقعہ کابیان کرنامقصود ہے جوآپ کی بعثت کاموجب تھا۔نہ کہ ترتیب زمانی کابیان کرنا مقصود ہے۔یہ واقعہ اس طرح پر ہواکہ ایک دفعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام رات کے وقت (عَلٰى حِيْنِ غَفْلَةٍ ) شہر میں داخل ہوئے اورانہوں نے دوآدمیوں کوآپس میں لڑتے ہوئے دیکھا۔ان میں سے ایک ان کی قوم کاتھا اور ایک ان کے دشمنوں میں سے تھا۔معلوم ہوتاہے وہ شخص جوان کا ہم قوم تھا عبرانی زبان بولتاتھا جس سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو پتہ لگ گیا کہ یہ شخص میری قوم میں سے ہے اورآپ نے اس کی مدد کرناضروری سمجھا۔یہاں اَعْدَآ ئِہٖ کی جگہ عَدُوِّہٖ کالفظ اس لئے رکھا گیا ہے کہ عَدُوِّہٖ سے قوم کی طرف اشارہ کرنامقصود ہے اور قوم کی صفت مفرد بھی آسکتی ہے۔پس ھٰذَامِنْ عَدُوِّہٖ سے یہ مراد ہے کہ دوسراشخص ان کی دشمن قوم میں سے تھا۔تب ان کو دیکھ کر وہ شخص جوان کی قوم میں سے تھا اس نے اس شخص کے خلاف جو ان کی دشمن قو م میں سے تھا۔مدد کی درخواست کی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ دیکھ کر کہ اگر میں نے مدد نہ کی توفرعونی قوم کا آدمی اسرائیلی کو مارنے پر تُلا ہواہے آگے بڑھ کر اس شخص کو ایک گھونسہ مارا۔یاتوموقعہ کی نزاکت کی وجہ سے انہوںنے گھونسہ بہت زو رسے مارا یااس شخص کادل یا جگر طبعی طور پر کمزور تھا اوروہ گھونسہ اس کے دل یا جگر کے مقام پر لگا۔اوروہ مرگیا۔اس پر حضرت موسیٰ علیہ اسلام نے کہا کہ هٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ۔یہ بات غصہ میں ہوگئی ہے۔شیطان کے معنے غضب کے بھی ہوتے ہیں کیونکہ شیطانٌ کا مادہ شَطَنَ بھی ہے اور شَاطَ بھی۔اگر شَاطَ اس کامادہ ماناجائے تواس کے یہ معنے ہوں گے کہ وہ شخص جوغصہ سے آگ بگولہ ہوجائے۔چنانچہ شَاطَ الشَّیْءُ کے معنے ہوتے ہیں اِحْتَرَقَ کوئی چیز