تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 212 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 212

وَ دَخَلَ الْمَدِيْنَةَ عَلٰى حِيْنِ غَفْلَةٍ مِّنْ اَهْلِهَا اور(ایک دن ) وہ شہر میں ایسے وقت میں آیا کہ لوگ غفلت کی حالت میں تھے (یعنی آرام سے اپنے گھروں فَوَجَدَ فِيْهَارَجُلَيْنِ يَقْتَتِلٰنِ١ٞۗ هٰذَا مِنْ شِيْعَتِهٖ میں سورہے تھے دوپہر کویا آدھی رات کو )اس نے اس شہر میں دوآدمیوں کودیکھا کہ آپس میں لڑر ہے تھے ایک اس وَ هٰذَا مِنْ عَدُوِّهٖ١ۚفَاسْتَغَاثَهُ الَّذِيْ مِنْ شِيْعَتِهٖ کے دوستوں کے گروہ میں سے تھا اوردوسرااس کے دشمنوں میں سے تھا۔پس اس نے جو اس کی جماعت میں سے تھا عَلَى الَّذِيْ مِنْ عَدُوِّهٖ١ۙفَوَكَزَهٗ مُوْسٰى فَقَضٰى عَلَيْهِ١ٞۗ اس شخص کے خلاف جو اس کے دشمنوں میں سے تھااس کی مددطلب کی۔اس پر موسیٰ ؑ نے اس (یعنی دشمن)کو ایک قَالَ هٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ١ؕاِنَّهٗ عَدُوٌّ گھونسامارا۔اوراس (گھونسے)نے اس کاکام تمام کردیا۔پھر موسیٰ نے کہا یہ سب واقعہ شیطانی کرتوت سے ہوا مُّضِلٌّ مُّبِيْنٌ۰۰۱۶قَالَ رَبِّ اِنِّيْ ظَلَمْتُ نَفْسِيْ ہے۔وہ (یعنی شیطان ) (مومن کا) دشمن اوراسے امن کے راستہ سے کھلا کھلا بہکانے والا ہے۔پھر (موسیٰ ؑ نے فَاغْفِرْ لِيْ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ۰۰۱۷ دعاکی کہ)اے میرے رب میں نے اپنی جان کو تکلیف میں ڈال دیا ہے پس تومیرے اس فعل پر پردہ ڈال دے۔قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَنْعَمْتَ عَلَيَّ فَلَنْ اَكُوْنَ ظَهِيْرًا سو اس نے اس فعل پر پردہ ڈال دیا۔و ہ بہت بخشنے والا (اور )بار بار رحم کرنے والا ہے۔تب اس (یعنی موسیٰ ؑ ) نے