تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 211 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 211

وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ اسْتَوٰۤى اٰتَيْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا١ؕ وَ اورجب وہ اپنی پختہ جوانی کوپہنچا اور (اپنے اعلیٰ اخلاق پر ) مضبوطی سے قائم ہوگیا توہم نے اسے حکم اورعلم بخشا كَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِيْنَ۰۰۱۵ اورہم محسنوں کو ایسا ہی بدلہ دیاکرتے ہیں۔حلّ لُغَات۔اَشُدَّہٗ۔محاور ہ میں کہاجاتاہے بَلَغَ فُلَانٌ اَشُدَّہٗ او راس کے معنے ہوتے ہیں قُوَّتَہٗ وَھُوَ مَابَیْنَ ثَمَانِیْ عَشْرَۃَ اِلیٰ ثَلَاثِیْنَ سَنَۃً۔یعنی فلاں اپنی جوانی کوپہنچا اور یہ زمانہ ۱۸سے ۳۰ سال کی عمر کاہوتا ہے۔(اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے جب موسیٰ ؑ اپنی جوانی کو پہنچا۔اوروہ اپنے اعلیٰ اخلاق پر مضبوطی سے قائم ہوگیا توہم نے اسے حکم اور علم بخشااو رہم محسنوںکوایسا ہی بدلہ دیاکرتے ہیں۔جہاں تک لغت کا تعلق ہے بَلَغَ فُلَانٌ اَشُدَّہٗ کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ وہ ۱۸سال سے ۳۰ سال کی عمر تک پہنچ گیا۔(اقرب) لیکن اس کے یہ معنے نہیں کہ کو ئی خاص عمر نبوت پر فائز ہونے کے لئے مقرر ہے۔انبیاء کی تاریخ دیکھنے سے معلوم ہوتاہے کہ وہ مختلف زمانوں میں مبعوث ہوتے رہے ہیں۔مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم چالیس سال کی عمر میں مبعوث ہوئے (بخاری کتاب مناقب الانصار باب مبعث النبیؐ)۔او رحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق مسیحیوں اور مسلمانوں کامتفقہ عقیدہ ہے کہ وہ تیس سال کے تھے(البدایة و النھایة بیان نزول کتب الاربعة)۔جب خدا نے ان کو نبی بنایا۔اسی طرح حضرت یحیٰ علیہ السلام کی عمر تیس سال سے بھی کم تھی جب ان کو نبو ت ملی (الخازن قولہ تعالیٰ و اتینہ الحکم صبیا)۔پس تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہرزمانہ کے حالات کے ماتحت ہر مامور کا زمانہ بعثت الگ الگ ہوتاہے۔پس بَلَغَ اَشُدَّہٗ کے زمانہ کی تعیین نہ تولغوی طور پر ہم کرسکتے ہیں اور نہ ہی تاریخی طور پر۔