تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 210 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 210

تفسیر۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ پر جب اللہ تعالیٰ کی یہ وحی نازل ہوئی اور آپ کو معلوم ہوگیا کہ اب اللہ تعالیٰ اس بچہ کو خود حفاظت کرے گا اور فرعون اسے قتل کرنے پر قادرنہیں ہوسکے گا تواس کے دل پر سے غم کا بوجھ اٹھ گیا۔اوراسے اتنی خوشی ہوئی کہ اگر ہم اس کے دل کو مومن بنانے کے لئے مضبوط نہ کرتے توقریب تھا کہ وہ اس راز کو ظاہرکردیتی۔مفسرین تواس کے یہ معنے کرتے ہیں کہ جب حضرت موسیٰ ؑ کی والد ہ نے اپنے بیٹے کو دریا میں بہادیاتوان کو ہروقت موسیٰ ؑ کاخیال ہی رہنے لگ گیا۔اَورکوئی بات انہیں سوجھتی ہی نہیں تھی۔یہی فکر تھا جو آٹھوںپہر انہیں بے تاب رکھتاتھا(الرازی)۔مگر یہ معنے بالکل غلط ہیں۔وَ اَصْبَحَ فُؤَادُ اُمِّ مُوْسٰى فٰرِغًا کے صحیح معنے یہ ہیں کہ جب موسیٰ ؑ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے انہیں خوشخبری دی کہ فرعون کے حملہ سے وہ محفوظ رہے گا توان کادل مطمئن ہوگیا اوران کاتمام غم جاتارہا۔بلکہ انہیں اس بشارت سے اس قدر خوشی ہوئی کہ قریب تھاکہ وہ بول اٹھتیں اورکہتیںکہ یہ میرابچہ ہے۔جس کی حفاظت کا خدا نے وعدہ فرمایا ہے۔لِتُبْدِیْ بِہٖ میں ضمیر موسیٰ ؑ کی طرف بھی جاسکتی ہے۔یعنی ان کاحال بتادیتی اوراس امر کی طرف بھی جاسکتی ہے کہ یہ واقعہ لوگوں کو سناتی پھر تیں کہ مجھے اس طرح الہام ہوااورپھر میں نے اس کی تعمیل میں اس اس طرح کیا۔اگران کو موسیٰ ؑ کے متعلق کوئی خطرہ لاحق ہوتا توان کے بول اٹھنے کاسوال ہی پیدا نہیں ہوتاتھا۔بولنے کاخیال توانہیں تبھی آسکتاتھا جبکہ و ہ خوش ہوتیں اورموسیٰ ؑ کی زندگی کے متعلق وہ پوری طرح مطمئن ہوتیں۔وَ قَالَتْ لِاُخْتِهٖ قُصِّيْهِ۔پھر انہوں نے موسیٰ ؑ کی بہن سے کہا کہ تُو اس کے پیچھے پیچھے جا۔چنانچہ وہ دور سے اس کو دیکھتی رہی اورفرعونیوں کو اس کاپتہ نہ لگا۔وَحَرَّمْنَا عَلَیْہِ الْمَرَاضِعَ مِنْ قَبْلُ۔اورہم نے اس سے پہلے ا س پر دودھ پلانے والیوں کو حرام کردیا۔اس آیت کے دونوں معنے ہوسکتے ہیں۔یہ بھی کہ کوئی دائی اس وقت میسر نہ آئی اوریہ بھی کہ موسیٰ ؑ نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے دوسری دائیوں کا دودھ پینے سے انکار کردیا۔اس پر موسیٰ ؑ کی بہن نے کہا کہ میں تمہیں ایک گھر کاپتہ دیتی ہوںجس کے افراد اس کو پال لیں گے اوروہ اس کی ہر طرح خیر خواہی کریں گے۔اس طرح ہم نے موسیٰ ؑ کو اس کی ماں کی طرف لوٹادیا تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوجائیں اوروہ غم نہ کرے اورجان لے کہ اللہ تعالیٰ کاوعدہ سچاہوتاہے۔لیکن اکثر لوگ اپنی بیوقوفی سے ان باتوںکو نہیں جانتے۔