تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 206
وَ اَوْحَيْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوْسٰۤى اَنْ اَرْضِعِيْهِ١ۚ فَاِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ اور ہم نےموسیٰ ؑ کی ماں کی طرف وحی کی تھی کہ اس کو (یعنی موسیٰ کو) دودھ پلا۔پس جب تو اس (کی جان) کے متعلق فَاَلْقِيْهِ فِي الْيَمِّ وَ لَا تَخَافِيْ وَ لَا تَحْزَنِيْ١ۚ اِنَّا رَآدُّوْهُ خائف ہوتو اس کو دریا میںڈال دے اور ڈر نہیں اور نہ کسی پچھلے واقعہ کی وجہ سے غم کر۔ہم اس کو تیری طرف لوٹا کے اِلَيْكِ وَ جَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ۰۰۸فَالْتَقَطَهٗۤ اٰلُ فِرْعَوْنَ لائیں گے اور اس کورسولوں میں سے ایک رسول بنائیں گے۔(چنانچہ موسیٰ ؑ کی ماں نے اس وحی کے مطابق عمل کیا لِيَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّ حَزَنًا١ؕ اِنَّ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ اورموسیٰ ؑ کو دریا میں ڈال دیا )سو اس کے بعد اس (یعنی موسیٰ) کو فرعون کے خاندان میں سے ایک نے اٹھالیا۔جس کا جُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِـِٕيْنَ۰۰۹ نتیجہیہ ہوا کہ ایک دن وہ ان کے لئے دشمن ثابت ہوا اور غم کا موجب بنا۔فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر غلطی میں مبتلا تھے۔حلّ لُغَات۔اَلْیَمُّ۔اَلْیَمُّ کے معنے ہیں اَلْبَحْرُ۔سمندر۔(اقرب) فَالْتَقَطَہٗ۔اِلْتَقَطَہٗ کے معنے ہیں عَثَرَعَلَیْہِ مِنْ غِیْرِ قَصْدٍ وَّلَا طَلَبٍ۔کوئی چیز بغیر قصد اور تلاش کے مل گئی اور اس نے اسے اٹھالیا۔(اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے۔موسیٰ ؑ کی پیدائش پر ہم نے اس کی والدہ کی طرف وحی نازل کی کہ کچھ مدت تک توتو اسے دودھ پلاتی رہ۔مگر جب تجھے اس کی جان خطرے میں نظر آئے اور اس راز کے ظاہر ہوجانے کا ڈر ہوتو تو اسے دریا میں ڈال دے اور ڈر نہیں اور نہ ہی غم کر۔کیونکہ ہم اسے ایک دن تیری طرف لوٹا کرلے آئیں گے اور اس کو اپنا رسول بنا دیں گے۔چنانچہ موسیٰ ؑ کی والدہ نے ایسا ہی کیا۔اور اسے سمندر میں ڈال دیا۔اور چونکہ موسیٰ ؑکے ہم خود محافظ تھے اس لئے بجائے اس کے کہ وہ غرق ہوتا۔فرعون کے خاندا ن کے بعض آدمیوں نے اسے اٹھا لیا تاکہ وہ ان کا دشمن بنے اور آنے والے دور میںا ن کے لئے غم کا موجب ثابت ہو۔(اس جگہ لام لامِ عاقبت ہے )