تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 200
نے بھی اپنی کتاب ’’کمنٹری آن دی قرآن‘‘ میں اس اعتراض کو نقل کیا ہے۔اسی طرح بعض اوریوروپین مستشرقین نے بھی لکھا ہے کہ ہامان۔فرعون موسیٰ ؑ کاکوئی وزیر یااعلیٰ افسر نہیں تھا بلکہ پانچویں صدی قبل مسیح کے ایک ایرانی بادشاہ کاوزیر تھا۔جس نے اخسویرس کے عہد حکومت میں یہودیوں کے قتلِ عام کی سازش کی مگربالآخر بادشاہ اس سے ناراض ہوگیااوراس نے ہامان کو صلیب پر لٹکادیا(تفسیر القرآن لوہیری)۔یوروپین مستشرقین کے اس اعتراض کی بنیاد بائیبل کی کتاب آستر باب۳ تا۷ پر ہے جس میں لکھا ہے کہ ’’اخسویرس بادشاہ نے اجاجی ہمداتاکے بیٹے ہامان کو ممتاز اورسرفراز کیا اوراس کی کرسی کو سب امراء سے جواس کے ساتھ تھے برتر کیا۔اورباد شاہ کے سب ملازم جوبادشاہ کے پھاٹک پر تھے ہامان کے آگے جھک کر اس کی تعظیم کرتے تھے کیونکہ بادشاہ نے اس کے بارے میں ایسا ہی حکم کیاتھا۔پرمرد کی (جوایک یہودی سردار تھا)نہ جھکتانہ اس کی تعظیم کرتاتھا۔تب بادشاہ کے ملازموں نے جو بادشاہ کے پھاٹک پر تھے مردکی سے کہا تُو کیوں بادشاہ کے حکم کوتوڑتاہے۔جب وہ اس سے روز کہتے رہے اوراس نے ان کی نہ مانی توانہوں نے ہامان کو بتادیا تاکہ دیکھیں کہ مردکی کی بات چلے گی یانہیں۔کیونکہ اس نے ان سے کہہ دیاتھا کہ میں یہودی ہوں۔جب ہامان نے دیکھا کہ مردکی نہ جھکتانہ میری تعظیم کرتاہے توہامان غصہ سے بھر گیا۔لیکن فقط مردکی ہی پر ہاتھ چلانا اپنی شان سے نیچے سمجھاکیونکہ انہوں نے اسے مردکی کی قوم بتادی تھی اس لئے ہامان نے چاہاکہ مردکی کی قوم یعنی سب یہودیوں کو جو اخسویرس کی پوری مملکت میں رہتے تھے ہلا ک کرے۔‘‘ (آستر باب ۳آیت ۱تا۷) اس کے بعد بتایاگیا ہے کہ ہامان اپنی تدبیر میں ناکام رہا اوراس کی بیوی نے جس کانام آستر تھا اور جو یہودن عورت تھی بادشاہ کو ہامان کے خلاف بھڑکادیااوربادشاہ نے اسے قتل کروادیا۔آستر کی اس روایت پر انحصار رکھتے ہوئے یوروپین مستشرقین نے کسی ایسے ہامان کے وجودکو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے جوفرعون موسیٰ کاہمعصر ہو۔لیکن عجیب بات یہ ہے کہ وہ کتاب جس پر اس اعتراض کی بنیاد رکھی گئی ہے خود محققین کی نگاہ میں ایک مشکوک اور ناقابل استناد کتاب ہے اوروہ اس کے بیان کردہ واقعات کو درست ہی تسلیم نہیں کرتے۔چنانچہ مارٹن لوتھر اور بعض دوسرے عیسائی علماء نے صاف طور پر لکھا ہے کہ آستر کی یہ داستان محض ایک افسانہ ہے جومبالغہ آرائی سے پُرہے۔بلکہ انہوں نے یہاں تک لکھا ہے کہ پانچویں صدی قبل مسیح کاکوئی ایرانی بادشاہ