تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 198 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 198

تھے۔لیکن یُذَبِّحُوْنَ کہہ کراس قو م کے غصہ اور کینہ کی طرف اشارہ کیاہے اوربتایاہے کہ وہ لوگ تلا ش کرکرکے بنی اسرائیل کے لڑکوں کوہلاک کرتے تھے۔وَ نُرِيْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِي الْاَرْضِ وَ نَجْعَلَهُمْ اَىِٕمَّةً وَّ نَجْعَلَهُمُ الْوٰرِثِيْنَ۔میں اللہ تعالیٰ نے نُرِیْدُ کالفظ استعما ل فرمایا ہے جومضارع کاصیغہ ہے۔جس میں استقبال کے معنے بھی پائے جاتے ہیں۔گویااس کے معنے یہ ہیں کہ آئندہ بھی ہمارایہی ارادہ ہے۔اس لفظ کو استعمال فرماکراللہ تعالیٰ نے اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ نہ صرف موسیٰ ؑ کے وقت ہم نے یہ ارادہ کیاتھا بلکہ آج محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی ہم نے یہ ارادہ کیاہے کہ حکومتِ ملکی جن لوگوں کو ظالمانہ طورپر کمزور کرناچاہتی ہے ان کو طاقت دی جائے کیونکہ وہ مظلوم ہیں۔اورگو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جبر کرنے کااختیار نہیں دیاگیا لیکن جس طرح الٰہی تدبیروں سے موسیٰ ؑ کے وقت کام لیاگیااورفرعون کوتباہ کیاگیااوراس کے اور اس کے درباریوں کے تختہء مشق لوگوں کی مدد کی گئی اوران کو اونچا کیا گیا اسی طرح الٰہی تدبیروں سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت بھی کام لیاجائے گا اورمکہ والوں کوتباہ کیاجائے گا اورمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والوں کو الٰہی تدبیروں کے ذریعہ سے اونچاکیاجائے گا۔اوروہ الٰہی تدبیر اس نے شروع میں ہی بیان کردی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والا ایک پُرحکمت اوربادلیل کلام ہے جس کے اثر اورطاقت سے لوگوں کے دل فتح ہوجائیں گے۔گویانتیجہ تووہی نکلے گا جوموسیٰ ؑ کے وقت میں نکلامگرموسیٰ ؑ کے وقت میں تواحکام الٰہی کی تعمیل کے لئے آپ کو اپنی قوم کے ساتھ سختی بھی کرنی پڑی اورپھر موسیٰ ؑ کی ساری قوم ایمان بھی نہ لائی صرف سیاسی طورپر موسیٰ ؑ کے ساتھ ہوگئی جیساکہ بائیبل سے ظاہر ہے۔کہ ایک لمبے عرصہ تک موسیٰ کی قوم موسیٰ ؑ پر اعتراض کرتی چلی گئی۔مگر محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں چونکہ پُرحکمت اوربادلیل کلام دیاگیاہے۔آپ کی قوم پورے طور پر محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے گی۔اورموسیٰ ؑ کی قوم سے بھی بڑھ کر اس کوعزت حاصل ہوگی۔موسیٰ ؑ کی قوم تو صرف فرعون کی شان و شوکت کے ایک حصہ کی وارث ہوئی تھی لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم اس سے بہت زیادہ ترقیات پائے گی کیونکہ اس کے ساتھ کتاب مبین ہوگی۔جیساکہ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ جَاھِدْھُمْ بِہٖ جِھَادًاکَبِیْرًا (الفرقان :۵۳) یعنی اے محمدؐ رسول اللہ ! تجھے لڑائیاں توپیش آئیں گی لیکن وہ لڑائیاں تیر ی زندگی کاماحصل نہیں ہوں گی بلکہ تیری زندگی کے کاموں کا ایک بہت چھوٹا سا حصہ ہوں گی۔ماحصل تیری زندگی کایہ ہے کہ قرآن سے اپنی قوم کے ساتھ جنگ کر اوریہ جنگ ہی بڑی جنگ ہوگی۔تلوار کی جنگ اس کے مقابلہ میں چھوٹی ہوگی۔