تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 191 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 191

پھربتایاکہ تمام تغیرات اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہیں اورو ہ جو تغیر بھی چاہتاہے جاری کرتاہے۔لیکن کفارکو ایساکوئی اختیارحاصل نہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے ظاہر کوبھی دیکھتاہے اور ان کے دل کے مخفی رازوں سے بھی آگاہ ہے اوروہ وحدہٗ لاشریک ہے ابتداء بھی اسی کی طر ف سے ہوتی ہے اورانجام بھی اسی کے ہاتھ میں ہے اوروہ اپنے ہرکام میں حمد کاہی مستحق ہوتاہے۔(آیت ۶۹تا۷۱) فرمایا۔یہ لوگ شرک توکرتے ہیں لیکن اتنانہیں سوچتے کہ اگر رات کواللہ تعالیٰ قیامت تک کے لئے لمبا کردے تو خدا تعالیٰ کے سوااورکون ہے جو ان کے پاس روشنی لائے گا۔یااگردن کو قیامت تک کے لئے لمباکردے تو خدا تعالیٰ کے سوااَورکون ہے جوان کے لئے رات کا وقت لائے۔خدا تعالیٰ ہی ہے جو سورج کوچڑھاتااورغروب کرتاہے۔پھر فرمایا۔یہ رات اور دن کاتسلسل اس لئے ہے کہ رات میں تم سکون حاصل کرسکو اوردن میں کام کاج کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کافضل تلاش کرو۔اوراس طرح اللہ تعالیٰ کے شکر گذار بندے بنو۔مگرمشرک لوگ اپنے مزعومہ معبودوں کواس کاشریک قرار دے دیتے ہیں حالانکہ کوئی مشرک نہیں جویہ تسلیم کرتاہوکہ سورج کواس کامعبود چڑھاتاہے یا اس کاغروب ہونا کسی بت کے اشارہ سے ہوتاہے۔(آیت ۷۲ تا۷۴) فرمایا۔ایک دن آنے والا ہے جب ان مشرکوں سے کہا جائے گاکہ آج تمہارے مزعومہ شرکاء کہاں ہیں۔وہ کیوں تمہاری مددنہیں کرتے۔اگرتمہارے پاس شرک کی تائید میں دلائل تھے توتمہاری وہ دلیلیں کہاں چلی گئیں۔تب مشرکوں پر اپنے بتوں کاجھوٹا ہونا بالکل واضح ہوجائے گا اوروہ کہیں گے کہ سچی بات وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے کہی تھی۔اوران کے تمام مفتریانہ دعاوی ان کو بھول جائیں گے۔(آیت ۷۵ تا۷۶) اس کے بعداللہ تعالیٰ مخالفوں کے سامنے قارون کی مثال پیش کرتاہے اوربتاتاہے کہ اس نے دولت کے نشہ میں اپنی قوم پر سختی کرنی شروع کردی و ہ خزانوں کا افسر تھا جن کی کنجیاں اٹھانابھی ایک مضبوط جماعت کے لئے دوبھر ہوتاتھا۔اس کی قوم نے اسے سمجھایاکہ تکبر نہ کر۔اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والوں کوپسند نہیں کرتا۔مگراس نے کہا۔یہ رتبہ مجھے یونہی نہیں ملا بلکہ میں نے اپنے علم کے زور سے اسے حاصل کیا ہے۔اس نے یہ نہ سوچاکہ اللہ تعالیٰ اس سے پہلے کتنی ہی قوموں کو تباہ کرچکا ہے جوا س سے بھی زیادہ طاقتور تھیں۔پھر ایساہوکہ ایک دن وہ بڑی شان و شوکت سے اپنی قوم کے سامنے سے گذرااورقوم نے اس پر رشک کیا مگرجولو گ روحانی نگاہ رکھنے والے تھے انہوںنے کہا کہ یہ کوئی قابل رشک چیز نہیں۔رشک کے قابل وہ جزاہے جو مومنوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہے۔مگریہ جزاانہی لوگوں کوملاکرتی ہے جومشکلات میں صبر سے کام لیتے ہیں۔آخر قارون کی سزاکا وقت آگیا اور ہم نے اسے اور اس کے