تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 190
یہ لوگ کہتے ہیں کہ اگرہم اسلام قبول کرلیں تو اردگرد کی قومیں ہمیں فوراًتباہ کردیں گی۔حالانکہ ان لوگوں کو سمجھنا چاہیے تھاکہ جس خدا نے ابراہیمؑ کے زمانہ سے مکہ کوحرم قرار دیاہواہے اوراس بے آب و گیاہ جنگل میں ساری دنیا کے پھل اورغلّہ لارہاہے وہ اس زمانہ کی ہدایت کو قبول کرلینے والوں کی کیوں حفاظت نہیں کرے گا اورکیوں انہیں بے یارو مدد گار چھو ڑ دے گا۔مگر ان لوگوں کوخدا تعالیٰ پر ایمان نہیں اوراپنی طاقت پر گھمنڈ کررہے ہیں۔ان کی آنکھوں کے سامنے وہ بستیاں موجود ہیں جوعذاب سے تباہ ہوگئیں۔مگرپھر بھی یہ نصیحت حاصل نہیں کرتے۔یہ تباہی ان بستیوں میں رہنے والوں پر اسی لئے آئی تھی کہ انہوں نے رسولوں کاانکار کیا۔بے شک دنیوی مال ودولت بھی اچھی چیز ہے۔مگرخدا تعالیٰ کی طرف سے جوترقی ملتی ہے وہ اس تھوڑے سے دنیوی مال یاتھوڑے سے سونے چاندی سے بہت بہتر ہوتی ہے مگر ان لوگوں کی عقل ایسی کمزور ہے کہ اتنی موٹی بات بھی ان کی سمجھ میں نہیں آتی۔( آیت ۵۸تا۶۱) پھر بتایاکہ جس کے پاس دنیوی دولت ہو وہ ان لوگوں کے برابر نہیں ہوسکتاجن سے اللہ تعالیٰ نے دائمی روحانی برکات کاوعدہ کیاہواہے۔کیونکہ اچھی چیز وہی ہے جس کاانجام اچھاہو۔اوران لوگوںکاانجام یہ ہوگاکہ قیامت کے دن انہیں جواب دہی کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضورحاضر ہوناپڑے گا۔(آیت ۶۲) اس وقت ائمۃ الکفر جولوگوں کو اپنے پیچھے چلاتے تھے خدا تعالیٰ کے سامنے یہ عذر کریں گے کہ ہم نے توان لوگوں کو وہی باتیں سکھائی تھیں۔جن کوہم سچاسمجھتے تھے مگران لوگوں پر ہماراکوئی اختیار نہیں تھا۔انہوں نے ہماری باتوں کو اس لئے ماناکہ خودان کااپنادل ان باتوں کومانناچاہتاتھا ورنہ درحقیقت یہ ہمارے پیچھے نہیں چلے بلکہ اپنی نفسانی خواہشات کی ہی انہوں نے تقلید کی ہے۔( آیت ۶۳و ۶۴) اس کے بعد ان کے جھوٹے معبودوں کی بیچارگی ظاہر کرنے کے لئے انہیں کہا جائے گا کہ اب اپنے معبودوں کوبلائو اورانہیں کہوکہ وہ تمہیں اس عذاب سے نجات دیں۔وہ آوازیں دیں گے مگران کاکوئی معبود انہیں جواب نہیں دے گا۔اس وقت گمراہ ہونے والے حسرت اور افسوس سے کہیں گے کہ کاش ہم ہدایت اختیار کرتے اور اس غلط راستے پر نہ چلتے۔(آیت ۶۵) پھر خدا تعالیٰ ان سے پوچھے گا کہ بتائوجو رسول میں نے تمہاری طرف بھیجے تھے انہیں تم نے کیا جواب دیاتھا۔اس پر وہ ایسے گھبراجائیں گے کہ تمام خیالات ان کے دماغ سے نکل جائیں گے اوروہ ایک دوسرے سے بھی کوئی بات پوچھنے کی طاقت نہیں رکھیں گے۔ہاں وہ لوگ جوایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کئے وہ یقیناً بامراد ہوں گے۔(آیت ۶۶تا۶۸)