تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 189
موسیٰ ؑ توتیری پیدائش سے دوہزار سال پہلے گذرچکے تھے۔پھراس کی کتاب میں تیرے متعلق پیشگوئیوں کاپایاجانا تیری صداقت کاکیوں ثبوت نہیں۔(آیت ۴۴تا۴۷) پھر بتایاکہ نبیوں کی بعثت قوموں پر حجت تمام کرنے کے لئے ضروری ہوتی ہے۔اگرنبی نہ آئیں تو لوگ خدا تعالیٰ کے سامنے عذر کرسکتے ہیں کہ ہماری طرف توکوئی سمجھانے والانہیں آیا۔پھر ہمیں کیوں سزادی جاتی ہے۔مگراب جبکہ خدا تعالیٰ نے ان کی اصلاح کے لئے ایک نبی کو مبعوث فرما دیا ہے وہ اس پراعتراض کرتے چلے جاتے ہیں اورکہتے ہیں کہ موسیٰ ؑ کی طرح اس پر یکدم اکٹھی کتاب کیوں نازل نہیں ہوئی۔فرماتا ہے۔اگر یہی صداقت کی دلیل ہے تو پھر موسیٰ کاکیوں انکار کیاگیا۔اس کے زمانہ میں بھی تولوگوںنے یہی کہہ دیاتھا کہ موسیٰ ؑ اورہارون ؑ دونوں جادوگر ہیں جوایک دوسرے کی مددکرتے ہیں۔پس تورات کابھی انکار کیاگیااور قرآن کابھی انکا رکیاگیا۔تورات کا تواس لئے انکار کیاگیاکہ وہ اکٹھی کیوں نازل ہوئی ہے اورقرآن کااس لئے انکار کیاگیاکہ یہ ٹکڑے ٹکڑے کر کے کیوں نازل ہوا۔اب تم کوئی ایسی کتاب لائو جوکسی تیسرے طریق سے نازل ہوئی ہو۔اوراس نے دنیا میں ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت پھیلائی ہو مگر تم ایساکبھی نہیں کرسکتے۔(آیت ۴۸تا ۵۰) ان لوگوں کے یہ اعتراضات بتارہے ہیں کہ انہیں کسی سچائی سے غرض نہیں۔بلکہ جوبھی پراگندہ خیال ان کے دل میں آتاہے۔وہ اسے ظاہر کردیتے ہیں اورایسے لوگ جوپراگندہ خیالات او رنفسانی خواہشات کے پیچھے چلنے والے ہوں کبھی کامیاب نہیں ہواکرتے۔(آیت ۵۱) فرماتا ہے ہم نے اس وحی کو ایک دوسرے کے ساتھ مربوط کرکے نازل کیاہے اورسارے قرآن میں ایک اعلیٰ درجہ کی ترتیب پائی جاتی ہے۔وہ لوگ جنہیں ہم نے اس سے پہلے کتاب دی تھی اورجوسچے معنوں میں اہل کتاب ہیں و ہ تورات پر بھی ایمان رکھتے ہیں اورقرآن کریم کی سچائی کو بھی تسلیم کرتے ہیں۔ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کے حضور دوہرے اجر کے مستحق ہیں۔(آیت ۵۲ تا۵۵) پھر ان لوگوں کی علامات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ و ہ بدی کانیکی سے مقابلہ کرتے اوراپنی تمام طاقتوں کو خدا تعالیٰ کے رستہ میں خرچ کرتے ہیں اورہرقسم کی لغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں۔اوردشمنی کرنے والوں کی بھی سلامتی چاہتے ہیں۔(آیت ۵۵و۵۶) پھر بتایاکہ ہدایت اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی میسر آتی ہے۔مگراس کے لئے ضروری ہوتاہے کہ انسان اپنے دل کوایساصاف رکھے کہ خدا تعالیٰ کے فضل کاہاتھ اسے ہدایت کی طرف کھینچ کرلے جائے۔(آیت ۵۷)