تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 188
جب وہ آگ کے پاس پہنچے تو انہیں اس مبارک مقام کے دائیں طرف کے کنارہ کی طرف سے ایک درخت کی جہت سے آواز آئی کہ اے موسیٰ! میں رب العالمین خداہوں۔پھر الہام ہواکہ تُواپناعصاپھینک دے۔انہوں نے عصاپھینکا۔تووہ انہیں ایک چھوٹے سانپ کی طرح تیزی سے حر کت کرتا ہوانظر آیا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام اس نظارہ کودیکھ کروہاں سے پیٹھ پھیر کر بھاگے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔اے موسیٰ !ڈر نہیں۔توسلامتی پانے والوں میں سے ہے۔پھراللہ تعالیٰ نے حکم دیاکہ اپنے ہاتھ کو اپنےگریبان میں ڈال اور اپنے بازو کو ڈر کی وجہ سے اپنے جسم سے ملالے۔یہ نشان ہیں جو فرعون اور اس کے سرداروں کے لئے تجھے عطاکئے گئے ہیں۔(آیت ۳۱تا۳۳) جب موسیٰ ؑ کو فرعون کی طرف جانے کاحکم ملا۔توانہوں نے کہاکہ خدایا میرے ہاتھ سے تواس کی قوم کاایک فرد مر چکاہے۔ایسانہ ہو کہ تیرے پیغام کے پہنچانے سے پہلے ہی میں ماراجائوں۔پھر انہوں نے کہا کہ خدایاہارون جو میرابھائی ہے وہ مجھ سے زیادہ فصاحت رکھتاہے تواس کو میرے ساتھ مدد گار کے طور پر بھیج دے۔اللہ تعالیٰ نے اس دعاکوقبول کیا اورفرمایا ہم ہارون کے ساتھ تیرے بازوکو مضبوط کریں گے۔اور تم دونوں کوکھلاکھلا غلبہ عطافرمائیں گے۔فرعون تم دونوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچاسکے گا۔(آیت ۳۴تا۳۶) حضرت موسیٰ علیہ السلام جب فرعون کے پاس گئے۔اورآپ نے انہیں اللہ تعالیٰ کاپیغام پہنچایاتو فرعون اور اس کے سرداروںنے آپ کی شدید مخالفت کی۔اور اسے ایک سکیم کے ماتحت تیار شدہ فریب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی باتیںتوہم نے اپنے باپ داداسے کبھی نہیں سنیں۔پھر فرعون نے ہامان سے کہا۔کہ ایک بہت بلند اور اونچی عمارت بنائو۔شائد میں اس پر چڑھ کر موسیٰ ؑ کے خدا کودیکھ سکوں۔اس طرح اس نے اور اس کے ساتھیوں نے تکبر سے کام لیا۔مگراس کانتیجہ کیانکلا ؟ ہم نے اسے اور اس کے لشکر کو سمندر میں غرق کردیا اوراب اس دنیامیں بھی ان پر لعنت برستی چلی جائے گی اورقیامت کے دن بھی وہ ذلیل ترین لوگوں میں کھڑے کئے جائیں گے۔(آیت ۳۷تا۴۳) فرماتا ہے ہم نے موسیٰ ؑ کو ایسی کتاب دی تھی جو لوگوں کو روحانی بینائی بخشنے والی اورہدایت اور رحمت کاسامان اپنے اندررکھنے والی تھی۔مگرانہوں نے اس سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا۔جیساکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے یہود بھی اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھارہے۔اس کے بعداللہ تعالیٰ تورات کی ان پیشگوئیوں کی طرف اشارہ کرتاہے جن میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی خبر دی گئی تھی۔اور فرماتا ہے کہ تُواس وقت موسیٰ ؑ کے ساتھ نہیں تھا جب ہم نے طورکے مغر بی جانب رسالت کاکام اس کے سپرد کیا۔اورنہ تُو مدین والوں کے ساتھ رہتاتھاجبکہ ہم نے وہاں تیرے متعلق پیشگوئی کی۔اگرایساہوتاتوسمجھاجاسکتاتھا کہ تم دونوں نے مل کر باہم منصوبہ کرلیاہوگا۔لیکن