تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 186 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 186

بوجھ اترگیااوراس کی ایسی حالت ہوگئی کہ اگرہم اس کے دل کومضبوط نہ کرتے توقریب تھاکہ وہ اس راز کو ظاہر کر دیتی۔موسیٰ ؑ کی ماں نے اس وقت موسیٰ ؑ کی بہن کوبلایا۔اوراسے کہا کہ تواس ٹوکرے کے پیچھے پیچھے جااوردورسے اسے دیکھتی رہ۔چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا۔اوردورسے ٹوکرے کودیکھتی رہی۔لیکن فرعونیوںکو اس کاکوئی پتہ نہ چلا۔جب موسیٰ ؑ شاہی محلات میں جاپہنچے اورانہیں دودھ پلانے کاسوال پیش آیا۔توموسیٰ ؑ نے الٰہی تصرف کے ماتحت دوسری دائیوں کادودھ پینے سے انکار کردیا۔اس پر موسیٰ کی بہن جوساتھ ساتھ آئی تھی کہنے لگی کہ میں تمہیں ایک گھر کا پتہ دیتی ہوں جس کے افراد اسے بخوشی پال لیں گے۔اوروہ اس کی ہرطرح نگہداشت رکھیں گے۔چنانچہ اس الٰہی تدبیر سے موسیٰ ؑ پھر اپنی ماں کی گود میں واپس آگئے اوراس کی آنکھوںکوٹھنڈک پہنچی۔(آیت ۱۱تا۱۴) جب موسیٰ ؑ اپنی روحانی بلوغت کو پہنچے تواللہ تعالیٰ نے انہیں صحیح فیصلہ کرنے کی قوت دی اور آسمانی علوم سے نوازا۔ایک دفعہ ایساہواکہ رات کے وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام شہر میں گئے توانہوں نے دوآدمیوںکوآپس میں دست و گریبان ہوتے دیکھا۔ایک ان کا ہم قوم تھااوردوسراان کی دشمن قوم کافردتھا۔موسیٰ ؑ کو دیکھ کر ان کے ہم قوم شخص نے انہیں اپنی مدد کے لئے آوازدی۔جب موسیٰ علیہ السلام آئے توانہوں نے دوسرے شخص کو ایک گھونسہ ماردیاجس کے لگتے ہی وہ شخص گرا اور گرکرمرگیا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس وقت اللہ تعالیٰ سے دعاکی۔کہ اے میرے رب! میرے اس فعل پر جو میں نے اپنی قوم کے ایک مظلوم شخص کی مددکے لئے کیاتھا۔مگرنادانستہ طورپر ایک آدمی مرگیا۔اپنے فضل سے پردہ ڈال دے۔اورمجھے اس کے برے نتائج سے محفوظ رکھ۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ایسافضل کیاکہ گورنمنٹ کاکوئی آدمی اس وقت نہ آیا اورمعاملہ مخفی رہا۔دوسری صبح وہ پھر شہر میں آئے اورانہوںنے دیکھا کہ وہی شخص جس نے کل انہیں اپنی مدد کے لئے بلایاتھا۔آج پھر کسی شخص سے لڑ رہاہے موسیٰ ؑ کودیکھتے ہی اس نے پھر آپ کو آواز دی۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب دیکھا کہ آج بھی وہی شخص دوسرے سے لڑ رہاہے توانہوں نے سمجھا کہ یہ شخص بھی گرم مزاج اورلڑاکامعلوم ہوتاہے۔اورانہوں نے اسے ملامت کرتے ہوئے کہا کہ تُو بھی بڑاجوشیلا اور تیز مزاج ہے کہ ہروقت لڑتارہتاہے۔مگرجب انہوں نے دوسرے شخص کو پکڑنے کے لئے اپناہاتھ بڑھایاتوان کے ہم قوم شخص نے غلطی سے یہ سمجھا کہ شاید موسیٰ ؑ آج مجھے مارنے کے لئے آگے بڑھ رہے ہیں۔اورکہنے لگا۔اے موسیٰ!کیاتویہ چاہتاہے کہ آج مجھے بھی اسی طرح ماردے جس طر ح تونے کل ایک شخص کوماراہے۔اس کے اس فقرہ سےاردگرد کے سب لوگوں کومعلوم ہوگیاکہ کل جوشخص مراہے اسے موسیٰ ؑ نے ہی ماراتھا۔اور چونکہ مقتول فرعونی قوم سے تعلق رکھتاتھا۔اس لئے یہ خبر سارے شہر میں پھیل گئی۔(آیت ۱۵تا۲۰)