تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 176 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 176

تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ سے یہ مراد نہیں کہ پہاڑ الگ چلتے ہیں اور زمین الگ چلتی ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ زمین چلتی ہے تو وہ بھی اس کے ساتھ چلتے ہیں۔اورجس طرح زمین بادلوں کو اپنے ساتھ کھینچے چلی جاتی ہے۔اسی طرح و ہ پہاڑوں کو بھی اپنے ساتھ اٹھائے چلی جاتی ہے۔اس آیت میں ظاہر ی طور پرتوپہاڑوں کے چلنے کی طرف اشارہ کیاگیاہے اوربادلوں کے ساتھ ان کی مشابہت بیان کی گئی ہے لیکن باطنی طور پر اس میں بڑی بڑی حکومتوں کی تباہی کی خبر دی گئی ہے۔اوربتایاگیاہے کہ تمہیں تواپنے زمانہ کی حکومتیں ایسی مضبوط دکھائی دیتی ہیں کہ تم سمجھتے ہو وہ صدیوں تک بھی تباہ نہیں ہوسکتیں مگر خدا تعالیٰ اسلام کی شوکت ظاہرکرنے کے لئے ان کو اس طرح اڑائے گا کہ ان کا نشان تک بھی نظرنہیں آئے گا۔چنانچہ اس کی مثال دیتے ہوئے بتایاکہ جس طرح ہوائیں بادلوں کو اڑاکر لے جاتی ہیں اسی طرح جب اسلام کی تائید میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوائیں چلنی شروع ہوئیں توکفرو شرک کے بڑے بڑے دیوقامت پیکراس طرح اڑیں گے کہ ان کا نشان بھی دکھائی نہیں دےگا۔مگریہ سب کچھ انسانی تدابیر سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے ہوگا۔اوراس کی قدرت اورصنعت کااس سے ظہور ہوگا۔آخر میں فرمایاکہ اِنَّہٗ خَبِیْرٌ بِمَاتَعْمَلُوْنَ۔یہ عظیم الشان انقلاب ا س صورت میں آسکتاہے جبکہ مسلمان بھی اپنے اندر انقلاب پیداکریں۔اگرتم اپنے اندرتبدیلی پیدا نہیں کروگے اورخدا تعالیٰ کی نگاہ میں ظالم بنوگے تو خدا تعالیٰ کوکیاضرورت ہے کہ وہ ایک ظالم کو مٹاکر دوسراظالم اس کی جگہ بٹھادے۔خدا تعالیٰ اسی صورت میں ان پہاڑوں کو اڑائے گا جب تم اپنے آپ کو اسلامی احکام کانمونہ بنائو گے۔اوراللہ تعالیٰ کی رضا اوراس کی خوشنودی کا مقام حاصل کرلو گے۔مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَيْرٌ مِّنْهَا١ۚ وَ هُمْ مِّنْ فَزَعٍ جوکوئی نیکی کرے گا۔اس کو اس سے بہتر بدلہ ملے گا اورایسے لوگ اس دن کے خوف سے (جس کا ذکر اوپر يَّوْمَىِٕذٍ اٰمِنُوْنَ۰۰۹۰وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّيِّئَةِ فَكُبَّتْ ہوچکاہے) محفوظ رہیںگے۔اورجو لوگ برے عمل لے کر خدا کی خدمت میں حاضر ہوں گے ان کے سرداروں کو