تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 172 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 172

گیاہے اوراس کا خدااس کے سامنے ہے اوروہ اپنے سارے جلال اور ساری شان و شوکت کے ساتھ اس پر ظاہر ہورہاہے۔اور دوسرے وقت میں وہی مومن اپنی نماز کو کھڑاکرنے میں مشغول ہوتاہے۔و ہ اسے کھڑاکرتاہے مگر وہ گرتی ہے وہ اسے پھر کھڑا کرتا ہے اور وہ پھر گرتی ہے۔و ہ پھر کھڑاکرتاہے اوروہ پھرگرتی ہے۔اوریہ حالت معمولی درجہ کے مومن کے ساتھ ہی مخصوص نہیں بلکہ اونچے درجے کے مومن بھی اپنے اپنے مدارج کے لحاظ سے اس حالت میں سے گذرتے ہیں اوران پر بھی رات اور دن کی طرح قبض اوربسط کی کیفیات وارد ہوتی رہتی ہیں۔اگر اس پر ہمیشہ قبض کی حالت رہے تواس کادل مرجائے اور و ہ روحانیت سے محروم ہو جائے اوراگر اس پر ہمیشہ بسط کی حالت رہے تووہ عادتاً عبادت کرنے لگ جائے اوراس کی نیکیوں کے پیچھے عزم وارادہ اورخواہش باقی نہ رہے۔پس انسانی مقام کوقائم رکھنے کے لئے اوراس لئے کہ نیکی کرتے ہوئے اس کاارادہ اورعز م بھی قائم رہے اور اس کی توجہ بھی قائم رہے ہرمومن پر خواہ اس کا مقام بڑا ہو یا چھوٹارات اوردن کی طرح لہروں کا زمانہ آتارہتاہے۔اور ہرمومن اپنے اپنےمقام کے لحاظ سے کبھی اونچا اٹھتاہے اور کبھی نیچے گرتاہے مگرہردفعہ جب وہ اونچااٹھتاہے توپہلے مقام سے اوپر چلاجاتاہے اورجب نیچے گرتاہے تواس وقت بھی اس کا قدم پہلے مقام سے اوپرچلاجاتاہے۔گویاقبض اوربسط کاسلسلہ اسے ہمیشہ ترقی کی طرف ہی لے جاتاہے۔تنزل کی طرف نہیںلے جاتا۔پھر یہ اتار چڑھائو کاسلسلہ صرف روحانی کیفیات میں ہی نہیں بلکہ قومی حالات میں بھی جاری رہتاہے۔بعض قوموں پر بھی کبھی قبض کی حالت آتی ہے اور کبھی بسط کی۔کبھی قو م پر ابتلائوں کی گھٹائیں چھائی ہوئی ہوتی ہیں اور کبھی اس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کی بارش ہورہی ہوتی ہے۔کبھی اس پر کامیابی کاسورج طلوع ہوتاہے اور کبھی رات کی تاریکی چھائی ہوئی ہوتی ہے۔کبھی قوم کے اندرنشوونماکا جوش ہوتاہے اور کبھی غفلت طاری ہوجاتی اور اس کے اندر آرام کرنے کی خواہش پیداہوجاتی ہے۔بہرحال جب تک کوئی قوم اپنے مقام کی بلندی اور پستی کے درمیان چکر کھاتی رہتی ہے وہ گرتی نہیں۔کیونکہ یہ قبض اوربسط کی حالت ہرانسان او رہرقوم کے لئے مقد رہے۔مگرجب کو ئی قوم یاانسان اپنے مقام سے گرکر نچلے درجہ میں چلاجائے توپھر اس کی حالت خراب ہوجاتی ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کی طرف توجہ دلانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے رات اور دن کی مثال ہمارے سامنے پیش کی ہے اوربتایاہے کہ تمہار اکام یہ ہے کہ تم رات سے بھی فائدہ اٹھائو اوردن سے بھی۔تم پر قبض کی حالت طاری ہوتووہ بھی تمہیں ترقی کی طرف لے جانے والی ہو اور تم پر بسط کی حالت طاری ہوتووہ بھی تمہارے مقام کو اونچا کرنے والی ہو۔