تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 171
مشغول ہے آسمان کے فرشتے بھی خاموش نہیں اور وہ بھی تباہی کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَوَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْھِمْ بِمَا ظَلَمُوْافَھُمْ لَایَنْطِقُوْنَ۔ایک دن یہ عذاب ان کے گھروں تک پہنچ جائے گا اورخدا تعالیٰ کی پیشگوئیاں پوری ہوجائیں گی۔یعنی اسلام غالب آجائے گا اورکفر کی صف ہمیشہ کے لئے لپیٹ دی جائے گی تب ان کی زبانیں بند ہوجائیںگی اورمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوگالیاں دینے والے یاتوآپؐ پر درود اور سلام بھیجنے لگ جائیں گے یاتباہی اور بربادی کا شکار ہوجائیں گے۔اَلَمْ يَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا الَّيْلَ لِيَسْكُنُوْا فِيْهِ وَ النَّهَارَ کیاان کومعلوم نہیں کہ ہم نے رات کو اس لئے بنایاہے کہ وہ اس میں آرام حاصل کریں اور دن کو دیکھنے کی مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ۰۰۸۷ طاقت دینے والا بنایا۔اس میں یقیناً مومن قوم کے لئے بڑے نشان ہیں۔تفسیر۔فرماتا ہے۔کیامسلمانوں نے اتنابھی نہ سوچاکہ ہم جو ان پر رات یعنی نبوت سے بُعد کا زمانہ لائے تھے تواس لئے لائے تھے کہ وہ ا س میں نئی روحانی طاقتیں حاصل کریں اورظلمت کے مقابلہ کے لئے ہرجگہ نورانی قندیلیں روشن کریں لیکن انہوں نے ثواب کے اس عظیم الشان موقعہ سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا۔اب ہم ان کے لئے دن چڑھائیں گے۔یعنی اپنا ایک ماموران میں مبعوث کریں گے۔اوریہ دن اس لئے چڑھے گاتاوہ حق و باطل میں تمیز کرسکیں۔لیکن اس سے فائدہ صرف مومن اٹھائیں گے۔جن کے دل مرچکے ہوںگے وہ پھر بھی پرانی تاریکیوں میں ہی پڑے رہیں گے۔اس جگہ رات اور دن کے چکر کی مثال دے کر اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ انسان اپنی فطرت کے لحاظ سے متواترکام نہیں کرسکتا۔اگراسے متواتر کام پر لگادیاجائے تو ایک وقت ایساآئے گاکہ وہ تھک جائے گااورپھر بے ہوش ہوکر گر پڑے گا۔انسان کی اس کمزوری کو ڈھانپنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے رات بنائی ہے۔جواسے دوبارہ کام کرنے کے قابل بنادیتی ہے۔یہی حالت روحانی ترقیات کی بھی ہے۔انسان پر ایسے وقت بھی آتے ہیں جب اس کی روحانیت قبض کی حالت میں ہوتی ہے۔اوراس پر ایسے وقت بھی آتے ہیں جب اس کی روحانیت پر بسط کی حالت ہوتی ہے۔ایک معمولی درجہ کے مومن پر بھی کوئی وقت ایساآتاہے جب وہ سمجھتاہے کہ وہ خدا تعالیٰ سے مل