تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 163 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 163

کرناہوگا۔فرق صرف یہ ہے کہ وہاں انسان کام سے تنگ نہیں آجائے گا اورتھکے گانہیں بلکہ خوشی محسوس کرے گا اورکام کرنے کے باوجود اس کے اندر بشاشت قائم رہے گی۔غرض آج کل لوگوں نے توکل کانہایت غلط مفہوم سمجھ رکھا ہے۔جوکام ان کی اپنی مرضی کے مطابق ہوتاہے اسے تووہ کرلیتے ہیں۔ا ورجوکام نہیں کرناچاہتے اس کے متعلق کہہ دیتے ہیں کہ ہم توکل سے کام لے رہے ہیں۔اگرتوکل کے یہ معنے ہوتے کہ عمل ترک کردیاجائے۔توپھر نماز اور روزہ اور حج اور زکوٰۃ وغیرہ کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔صرف زبان سے ایمان کااظہار کرناہی انسان کو نجات دے دیتا۔پس توکل کاصحیح مفہوم یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے پیداکردہ سامانوں سے پوری طر ح کام لے اور پھر اللہ تعالیٰ کے حضور جھک جائے او راس سے کہے کہ اے خدا! جوسامان میرے اختیار میں تھے و ہ تو میں نے سب استعمال کرلئے ہیں اب کوئی کمی رہ گئی ہے توتُوخو د اپنے فضل سے اسے پورافرما اورمیری کوتاہیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اس کام کے نیک نتائج پیدافرما۔جب وہ ایسا کرے گاتب اسے اللہ تعالیٰ کی نصرت حاصل ہوگی اوروہ اپنے ہر کام میں کامیابی حاصل کرے گا۔لیکن جو شخص کام نہیں کرتا اور پھر اپنے آپ کو متوکل کہتاہے وہ توکل کے ساتھ تمسخر کرتااور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کامورد بنتاہے۔اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا تُو (ہرگز) مُردوں کونہیں سنا سکتا۔اور نہ بہروں کو ہی (اپنی )آواز سناسکتاہے۔خصوصاًجبکہ وہ پیٹھ پھیر کرچلے وَلَّوْا مُدْبِرِيْنَ۰۰۸۱وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِي الْعُمْيِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ١ؕ جاتے ہیں۔اورتُو اندھوں کو بھی ان کی گمراہی سے بچا کر ہدایت نہیں دے سکتا۔تُوتوصرف انہی کوسناتاہے اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ يُّؤْمِنُ بِاٰيٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ۰۰۸۲ جوہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں۔اوروہ (عملاًبھی)فرمانبردار ہوتے ہیں۔تفسیر۔چونکہ اوپر یہ کہاگیاتھا کہ اِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ الْمُبِيْنِ تُوایک واضح اور روشن سچائی پر قائم ہے اس