تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 162 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 162

کرو۔اس جنگ کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ تمہیں فتح دے دے گا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب اپنی قوم کوخدا تعالیٰ کا یہ حکم سنایاتوانہوں نے کہا اللہ تعالیٰ کاہم سے یہ وعدہ ہے کہ وہ ہمیں کنعان کی سرزمین دے گا وہ اپنے وعدہ کو آپ پوراکرے۔ہم اپنی جانوں کو کیوں ہلاکت میں ڈالیں۔موسیٰ ؑ اور اس کا خدادونوں جاکر دشمنوں سے لڑیں (المائدۃ: ۲۲ تا ۲۷) اورجب فتح ہوجائے تو ہمیںآکر بتادیاجائے ہم کنعان کی سرزمین میں داخل ہوجائیںگے۔پھر جانتے ہو اس کانتیجہ کیا ہوا۔باوجود وعدہ کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے وہ زمین ان پر چالیس سال تک حرام کردی اوران پر ایسی ذلّت نازل کی کہ وہ تمام لوگ جنہوں نے یہ اعتراض کیا تھا ایک ایک کرکے جنگلوں میں بھٹک کرمر گئے۔اورپھر ان کی نسلوں کے ذریعہ یہ الٰہی وعدہ پوراہوا۔توجہاں تدبیر کاتعلق ہووہاں باوجود وعدہ کے۔باوجود الٰہی فیصلہ کے۔باوجودالٰہی مشیت اور ارادہ کے اس وقت تک خدا تعالیٰ کی نصرت نازل نہیں ہوتی۔جب تک تمام کی تمام قوم قربانی کرنےکے لئے تیار نہیں ہوجاتی۔اور اگر کوئی قوم قربانی کے لئے تیار نہ ہو توجھوٹاتوکل اسے کامیاب نہیں کرسکتا۔حدیثوں میں آتاہے۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے سوال کیا کہ یارسول اللہ!کیا میں پہلے اپنے اونٹ کاگھٹنا باندھوں اور پھر توکل کروں یااسے آزاد رہنے دوں اورتوکل کروں۔آپ نے فرمایا اِعْقِلْھَا وَتَوَکَّلْ (ترمذی جلد ۲ابواب صفۃ القیامۃ)۔پہلے اونٹ کا گھٹنا باندھو اور پھر توکل کرو۔یعنی پہلے عمل کرو اور پھر خدا تعالیٰ پر نتیجہ چھوڑو۔یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم رات دن کام میں مشغول رہتے تھے۔خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس قدر عبادت کرتے تھے کہ کھڑے کھڑ ے آپ کے پائو ںمتورم ہوجاتے۔ایک دفعہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا۔یارسول اللہ آپ اتنی عبادت کیوں کرتے ہیں۔کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف نہیں کردیئے۔آپؐ نے فرمایا۔کیا میں اللہ تعالیٰ کاشکر گذار بند ہ نہ بنوں (مشکوٰۃ کتاب الصلوٰۃ باب التحریض علی قیام اللیل)۔اگر توکل کے یہ معنے ہوتے کہ انسان ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائے توسب سے زیادہ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا عمل ہوناچاہیے تھا کیونکہ آپؐ سب سے بڑھ کر متوکل تھے۔مگرآپ سب سے زیادہ مشغول رہتے تھے۔پھر ان معنوں میں سب سے زیادہ توکل تو جنت میں ہو سکتا ہے۔مگرقرآن کریم سے معلوم ہوتاہے کہ وہاں بھی مشغولیت ہو گی جیسے فرمایا فِیْ شُغُلٍ فٰکِھُوْنَ (سورئہ یٰسٓ آیت ۵۶)۔اگرتوکل کا یہی مفہوم ہوتا توجب وہاں ہرچیز خدا تعالیٰ کی طرف سے ملنی ہے تومومنوںکوتوجنت میں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاناچاہیے تھا مگروہاں کے لئے بھی شغل کونکرہ کے طور پر استعمال کرکے بتایاکہ وہاں بڑاعظیم الشان کام