تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 155 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 155

شرک کرنے کاواقعہ بالکل غلط ہے۔بلکہ اس واقعہ سے وہ استدلال کرتے ہوئے لکھتاہے کہ بائیبل میں اَور بھی کئی واقعا ت بعد میں بڑھادیئے گئے ہیں (انسائیکلوپیڈیا برٹینیکا جلد ۴ زیر لفظ دی گولڈن کاف و جلد ۱۵ زیر لفظ موسیٰ)۔اسی طرح بائیبل بیان کرتی ہے کہ جب بنی اسرائیل نے مصر سے ہجرت کی توو ہ لاکھوں کی تعد اد میں تھے(خروج باب ۱۲ آیت ۳۸)۔مگرقرآن کریم کہتاہے کہ وَھُمْ اُلُوْفٌ (سورئہ بقرۃ ع ۳۲)۔و ہ صرف ہزاروں تھے اور تاریخ سے اور بائیبل کی تفصیلات سے بھی پتہ لگتاہے کہ وہ ہزاروں ہی ہوسکتے تھے لاکھوں نہیںہوسکتے تھے۔کیونکہ لاکھوں آدمی اتنی جلدی مصر کے دوردراز علاقہ سے بحیرئہ قلزم تک نہیں پہنچ سکتے تھے۔نہ لاکھوں آدمیوں کے لئے سواریاں میسر آسکتی تھیں۔آجکل مشینوں کا زمانہ ہے۔لیکن پھر بھی اگر تیس چالیس ہزار آدمی ایک جگہ سے دوسر ی جگہ جاناچاہیں توریلیں اورلاریاں ان کے لے جانے سے عاجز ہوجاتی ہیں کجایہ کہ گھوڑوں بیلوں اورگدھوں کا زمانہ ہو اور ایک رات میں لاکھوں آدمی کئی سومیل پرپہنچادیئے جائیں۔اسی طر ح قرآ ن کریم بھی بیا ن کرتاہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے اپنے ایک بیٹے کو قربان کرنے کا حکم دیا اور بائیبل بھی یہی بیان کرتی ہے مگر تفصیلات کو دیکھاجائے تو بائیبل کاحکم بالکل بے معنے معلوم ہوتاہے۔لیکن قرآن کریم کاحکم اپنے اند ربڑی بھاری حکمتیں رکھنے والا دکھائی دیتاہے۔بیشک قرآن اوربائیبل کا اس امر میں بھی اختلاف ہے کہ بائیبل کہتی ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کواسحاق ؑ کے ذبح کرنے کاحکم دیاگیا۔اورقرآن کریم حضرت اسماعیل علیہ السلام کانام لیتا ہے۔لیکن ذبیح اسحاق ؑ ہو یا اسماعیل ؑ اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا بات ایک ہی رہتی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے اپنےایک بیٹے کی قربانی کاحکم دیا اورآپ نے اسے قبول کرلیا۔لیکن جہاں تک اس واقعہ کے اخلاقی پہلوکاتعلق ہے قرآن کریم کا بتایاہواواقعہ اپنے اندر بڑی بھاری معقولیت رکھتا ہے۔لیکن بائیبل کے بیان کردہ واقعہ میں کوئی معقولیت دکھائی نہیں دیتی۔بائیبل کہتی ہے کہ ’’خدا نے ابراہام کو آزمایااوراسے کہا اے ابراہام! اس نے کہا۔میں حاضر ہوں۔تب اس نے کہا کہ تواپنے بیٹے اضحاق کوجوتیرااکلوتاہے اورجسے تُو پیارکرتاہے ساتھ لے جاکر موریا ہ کے ملک میں جااور وہاں اسے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ پرجو میں تجھے بتائوں گا سوختنی قربانی کے طور پر چڑھا۔‘‘ (پیدائش باب ۲۲آیت ۱،۲) بائیبل کہتی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایسا ہی کیا۔لیکن جب انہوں نے اضحاق کوباندھا اوراسے قر بان گاہ پر لکڑیوں کے اوپر رکھا اورچھر ی لی تاکہ اپنے بیٹے کو ذبح کرے