تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 154
تفسیر۔فرماتا ہے۔آسمان اور زمین میں کوئی بھی مخفی چیز نہیں مگراللہ تعالیٰ کے علم میں وہ پوری طرح محفوظ ہے۔چنانچہ اس کے ثبوت کے طور پر قرآن کریم کو دیکھ لو کہ اکثر باتیں جن میں بنی اسرائیل اختلاف رکھتے ہیں۔ان کو قرآن کریم خوب کھو ل کر بیان کررہاہے اورسچی بات خواہ ہزاروں پردوں کے پیچھے چھپی ہوئی ہواسے نکال کر سامنے لے آتاہے۔اورہرعقلمند کومانناپڑتا ہے کہ قرآن کابیان صحیح ہے اوربائیبل کابیان غلط۔مثلاً بائیبل میں لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام خدا تعالیٰ کی تجلّی دیکھنے کے لئے طُور پر گئے توان کے پیچھے ہارون علیہ السلام مشرکوں کے ساتھ مل گئے اورانہوں نے خود ان کے لئے سونے کابچھڑابنایا۔اورپھراس کی پرستش شروع کردی(خروج با ب ۳۲آیت ۱تا۶)۔لیکن قرآن کریم کہتاہے کہ حضرت ہارون علیہ السلام نے ایسا ہرگز نہیں کیا۔یہ ایک نہایت ہی گندہ اور ناپاک الزام ہے جو ان پر لگایاجارہاہے۔انہوںنے توبنی اسرائیل کو بچھڑے کی پرستش کرنے سے بڑی سختی کے ساتھ روکا تھا اورفرمایاتھا کہ يٰقَوْمِ اِنَّمَا فُتِنْتُمْ بِهٖ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمٰنُ فَاتَّبِعُوْنِيْ۠ وَ اَطِيْعُوْۤا اَمْرِيْ (طٰہ: ۹۱) یعنی اے میری قوم ! بچھڑے کے ذریعہ تم ایک بڑی آزمائش میں ڈالے گئے ہو۔تمہارارب تو رحمٰن خداہے جو پیدائش سے بھی پہلے تمہاری مدد کرتارہاہے اوراب بھی اس نے اپنی ہزاروں نعمتوں سے تمہیں متمتع کیا ہواہے۔اس بچھڑے نے تمہاری کیا مددکرنی ہے کہ تم اس کے آگے اپناسرجھکارہے ہو۔پھر قرآن کریم اس امر کی بھی وضاحت فرماتا ہے کہ یہ بچھڑا ایک روحانیت سے بے بہرہ شخص نے بنایاتھا۔جس کانام سامری تھا۔اب دیکھو قرآن کریم دوہزارسال کے بعد آیا اوربائیبل خود اس کے ماننے والوں کے نزدیک حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں لکھی گئی تھی۔مگر جوکتاب موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں لکھی گئی وہ توہارون علیہ السلام کوملز م قراردیتی ہے۔مگرتیرہ سوسا ل کے بعد نازل ہونے والا قرآن ہارون علیہ السلام کو ہر قسم کے الزامات سے پاک ٹھہراتاہے۔پھر اگرعلم النفس کے ماتحت دیکھا جائے کہ ان دونوں روایات میں سے کونسی روایت درست ہے توصاف معلوم ہوتاہے کہ قرآن کریم کی روایت ہی درست ہے کیونکہ بائیبل بھی حضرت ہارون علیہ السلام کو صاحبِ الہام تسلیم کرتی ہے۔اورجب وہ انہیں خدارسید ہ سمجھتی ہے تو ایک صاحبِ الہام کو یہ شبہ ہی کیونکر ہو سکتا ہے کہ خدابھی ہے یا نہیں۔آخر بچھڑے کی پوجاوہی شخص کرسکتاہے جسے خدا تعالیٰ کے وجود میں شبہ ہو۔مگر جوخود ملہم من اللہ ہو اسے خدا تعالیٰ کے وجود میں کس طرح شبہ ہو سکتا ہے۔پس علم النفس کی شہادت سے بھی ثابت ہوتاہے کہ حضرت ہارون علیہ السلام پر بابیئل نے جوالزام لگایا ہے و ہ سراسر غلط ہے۔اوریہ چیز ایسی ہے جو ہرعقلمندکوتسلیم کرنی پڑتی ہے۔چنانچہ انسائیکلوپیڈیا برٹینیکا جسے انگلستا ن کے بڑے بڑے علماء نے مل کرمرتب کیاہے اس میں بھی اس امر پر بحث کرتے ہوئے تسلیم کیاگیا ہے کہ ہارون علیہ السلام کے