تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 141
اَمَّنْ يَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَ مَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ (بتائوتوکہ)وہ جو پہلی دفعہ پیداکرتاہے اورپھر (پیدائش کے )سلسلہ کوجاری کرتاہے۔اورجوبادلوں اورزمین سے السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ تمہیں رزق دیتاہے۔کیا(اس قادر مطلق)اللہ کے سواکوئی اَور معبود بھی ہے ؟ تُو کہہ دے کہ اگر تم سچے ہو تواپنی اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۰۰۶۵ دلیل پیش کرو (کہ اس کے ثانی اَوربھی ہیں)۔تفسیر۔فرماتا ہے تم بتاؤتو سہی کہ کون ہے جو تمہیں پہلی دفعہ پیدا کرتا ہے اور پھر پیدائش کے اس سلسلہ کو جاری رکھتا ہے۔اور کون ہے جو تمہیں آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے۔کیا اس قادرمطلق خدا کے سوا کوئی اور بھی ہے جو ایسا کرسکے۔اگر تم سچے ہوتو اس کی دلیل پیش کرو۔اس جگہ بھی مَنْ يَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗسے طبقات الارض والی پیدائش مراد نہیںکیونکہ طبقات الارض والی پیدائش نہ تو کسی نے دیکھی ہے اور نہ اس کو توحیدِ باری تعالیٰ کی دلیل کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے اس جگہ پیدائش اولیٰ سے مراد قوموں کو تمکنت بخشنا اور یُعِیْدُہٗ سے مراد غالب قوموں کے زوال کے بعد ان میں دوبارہ زندگی اور بیداری کی روح پیدا کرنا ہے۔گویا بتایا کہ اگر تم قوموں کی ترقی اور ان کے زوال کی تاریخ پر غور کرو تو تمہیں معلوم ہوگا کہ جب بھی کسی قوم نے ترقی کی ہے تو صرف الٰہی مدد اور تائید سے کی ہے اور جب بھی کوئی قوم اپنے انحطاط کے بعد دوبارہ زندہ ہوئی ہے تو اس کا احیاء ثانیہ بھی الٰہی تدبیروں کے ماتحت ہی ہوا ہے۔خودبخودنہیں ہوا۔اس آیت میں قوموں کی ترقی اور غلبہ کے بعد ان کے زوال اور پھر زوال کے بعد ان کے دوبارہ احیاء کا ذکر کرکے مسلمانوں کو بھی نہایت لطیف پیرایہ میں اس امر کی طرف توجہ دلائی گئی تھی کہ تمہیں بھی دنیا پر محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے غلبہ حاصل ہوگا۔اس لئے کبھی اس ترقی کو اپنے زور بازو کا نتیجہ نہ سمجھنا ورنہ تمہاری ساری ترقیات جاتی رہیں گی اور پھر آسمانی تدبیر کے بغیر تمہیں دوبارہ دنیا میں غلبہ میسّر نہیں آسکے گا۔مگر افسوس ہے کہ مسلمانوں نے اس قیمتی سبق کو فراموش کردیا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ قومی طور پروہ ایسے زوال کا شکار ہوئے کہ اغیار کی نگاہ میں وہ ہنسی کا نشانہ بن کر رہ گئے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انسان دنیا میں پیدا بھی ہوتے ہیں اور مرتے بھی ہیں۔کوئی انسان دنیا میں ایسانہیں