تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 140
پھراَورلوگ توالگ رہے مولانامودودی صاحب کو بھی تسلیم کرناپڑاکہ ’’ اکثر لوگ اقامت دین کی تحریک کرنے کے لئے کسی ایسے مردِ کامل کو ڈھونڈتے ہیں جو ان میں سے ایک ایک شخص کے تصور کما ل کامجسمہ ہو اورجس کے سارے پہلو قوی ہی قوی ہوں۔کوئی پہلوکمزور نہ ہو۔دوسرے الفاظ میں یہ لوگ دراصل نبی کے طالب ہیں اگرچہ زبان سے ختم نبوت کا اقرار کرتے ہیں۔اورکوئی اجرائے نبوت کانام بھی لے تواس کی زبان گُدّی سے کھینچنے کے لئے تیار ہوجائیں۔مگراندر سے ان کے دل ایک نبی مانگتے ہیں اورنبی سے کم کسی پر راضی نہیں۔‘‘ (ترجمان القرآن دسمبر و جنوری ۴۳۔۴۲ء ص ۴۰۶) غرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی آمد سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ایسی رَوچلادی کہ تمام دنیا بڑی بے تابی سے ایک مسیح اور مہدی کاانتظارکرنے لگ گئی۔یہ بھیگی بھیگی ہوائیں اس بات کاثبوت تھیں کہ اب جلد ہی آسمانِ روحانیت پرایسابادل چھانے والا ہے جواپنی موسلادھار بارش سے پیاسی روحو ںکوسیراب کردے گا۔اوران کی بے قرار ی کو دورکردے گا۔اسی لئے بانی سلسلہ احمدیہ نے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے تحریر فرمایاکہ ’’ اے بندگانِ خدا! آپ لوگ جانتے ہیں کہ جب امساکِ باراں ہوتاہے اورایک مدت تک مینہہ نہیں برستاتواس کاآخری نتیجہ یہ ہوتاہے کہ کنوئیں بھی خشک ہونے شروع ہوجاتے ہیں۔پس جس طرح جسمانی طور پر آسمانی پانی بھی زمین کے پانیوں میں جوش پیداکرتاہے اسی طرح روحانی طور پر جو آسمانی پانی ہے (یعنی خدا کی وحی)وہی سفلی عقلوںکو تازگی بخشتاہے۔سویہ زمانہ بھی اس روحانی پانی کا محتاج تھا۔میں اپنے دعویٰ کی نسبت اس قدر بیان کرناضروری سمجھتاہوں کہ میں عین ضرورت کے وقت خدا کی طرف سے بھیجا گیاہوں جبکہ اس زمانہ میں بہتوں نے یہود کارنگ پکڑ ااورنہ صرف تقویٰ اور طہارت کو چھوڑا بلکہ ان یہود کی طرح جوحضرت عیسیٰؑ کے وقت میں تھے سچائی کے دشمن ہوگئے۔تب بالمقابل خدا نے میرا نام میسح رکھ دیا۔نہ صرف یہ ہے کہ میں اس زمانہ کے لوگوں کو اپنی طرف بلاتاہوں بلکہ خود زمانے نے مجھے بلایا ہے۔‘‘ (براہین احمدیہ حصہ پنجم کی یادداشتیں ص ۱۲) غرض اس زمانہ کے لوگوں کے لئے بھی اللہ تعالیٰ نے يُّرْسِلُ الرِّيٰحَ بُشْرًۢا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهٖ کے مطابق بانی سلسلہ احمدیہ کی صداقت پر ایک بڑی بھاری دلیل مہیاکردی ہے۔فائدہ اٹھانا یانہ اٹھانا یہ لوگوں کااپناکام ہے۔