تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 135 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 135

شکایت پہنچ چکی ہے۔وہ نہ سنتاہے نہ دیکھتاہے نہ اس کے دل میں کوئی خیال گذرتاہے۔مگر مظلوم کی فریاد خدا تعالیٰ کے عرش کو ہلادیتی ہے۔پس فرماتا ہے اَمَّنْ يُّجِيْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ يَكْشِفُ السُّوْٓءَ۔جب انسان خدا تعالیٰ کے حضور مضطر ہوکر فریاد کرتاہے۔جب کوئی اس کے پاس نہیں ہوتا تواس وقت کون اس کی مدد کے لئے آتاہے۔دنیا غافل ہوتی ہے مگرخدااپنے بندے کی مددسے غافل نہیں ہوتا۔وہ خود آتاہے اورکہتاہے اے میرے بندے۔میں تیری مدد کے لئے آگیاہوں۔اورپھر وہ ایسی محبت اورپیار کاسلوک کرتاہے کہ اس کا ہردکھ دور ہو جاتا ہے۔پھر فرماتا ہے کہ وہ صرف یہیں تک اپنے انعامات کومحدود نہیں رکھتا کہ مضطر کی دعاکوقبول کرکے اس کی تکلیف کودورکردیتاہے بلکہ يَجْعَلُكُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِ۔وہ بڑے بڑے سرکشوں اورظالموں کوتباہ کرکے مظلو م اور کمزورنظر آنے والے لوگوں کوان کا خلیفہ اور جانشین بنادیتاہے۔گویا انفرادی رنگ میں بھی و ہ پریشان حال لوگوں کی تکالیف کودور کرتاہے اورقومی رنگ میں بھی مظلوم اور اسیر اقوام کو بام رفعت تک پہنچاتاہے اور بڑے بڑے مغرور اورخود سر اورظالم اورعیاش حکمران ان کی آہ کاشکار ہوجاتے ہیں۔اسی حقیقت کواللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے مقام پر ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا١ۙ وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ وَ مَا كَانُوْا لِيُؤْمِنُوْا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِي الْقَوْمَ الْمُجْرِمِيْنَ۔ثُمَّ جَعَلْنٰكُمْ خَلٰٓىِٕفَ فِي الْاَرْضِ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُوْنَ (یونس :۱۴،۱۵) یعنی ہم یقینی طور پر تم سے پہلے بھی قوموں کے بعد قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں۔جبکہ انہوں نے باوجود اس کے کہ ان کے پاس ان کے رسول کھلے کھلے نشانات لے کر آئے تھے ظلم سے کام لیا اوروہ ایمان نہ لائے اورہم مجرموں سے اسی طرح انتقام لیاکرتے ہیں۔اس کے بعد ہم نے تمہیں ان کاجانشین بنادیا تاکہ ہم دیکھیں کہ تم دنیا میں کیسے عمل کرتے ہو۔اورمظلومیت کی حالت میں جو تمہارے اندرنیکی اور تقویٰ پایاجاتاتھا آیا اپنی طاقت کے زمانہ میں بھی تم اس کو قائم رکھتے ہو یانہیں۔اصل بات یہ ہے کہ مضطر کی دعا اسے اللہ تعالیٰ کے انعامات کاتومستحق بنادیتی ہے مگر انعامات کو قائم رکھنے اوراس کے تسلسل کو لمباکرنے کے لئے پھر اَورجدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے۔اوراگر کوئی قوم اس میں غفلت سے کام لیتی ہے تووہ اس انعام کو کھو بیٹھتی ہے۔زیر تفسیر آیت میں اللہ تعالیٰ نے فردی اورقومی دونوں قسم کے انعامات کا ذکر فرمایا ہے۔اوربتایاہےکہ اللہ تعالیٰ کا انفراد ی رنگ میں بھی یہ سلوک ہے کہ و ہ مظلو م کی دعاکوقبول کرکے اس کی تکلیف کودور کردیتاہے۔اورقومی رنگ میں بھی اس کایہ قانون ہے کہ وہ ظالم قوم کو مٹا کر مظلوموںکو ان کا جانشین بنادیاکرتاہے اورتاریخ میں اس کی