تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 134 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 134

آجائے مگر وکیل اس کے کام نہیں آسکتا۔ہو سکتا ہے کہ کوئی بے گناہ کسی مقدمہ میں مبتلاہو تووکیل اس کے کام آجائے۔مگر بوجھ اٹھانے کے وقت وکیل اس کے کام نہیں آسکتا۔ہو سکتا ہے بوجھ اٹھانے کے وقت ایک زمیندار اس کےکام آجائے لیکن امیر طبیب اور وکیل اس کے کام نہیں آسکتا۔مگراللہ تعالیٰ یہ سارے کام کرسکتاہے۔باقی انسان جس قدر ہیں وہ توکسی کسی ضرورت میں کام آسکتے ہیں۔کوئی ایک قسم کے مضطر کے کام آسکتاہے کوئی دوسرے قسم کے مضطر کے کام آسکتاہے۔مگرہرقسم کے مضطرین کی ضرورتیں پورا کرنے والی خدا کی ہی ذات ہوتی ہے اورانسان کے اضطرار کی ہزاروں حالتیں ہوتی ہیں۔بھلاان حالتوں میں کوئی بندہ کسی کے کب کام آسکتاہے۔ان حالتوں میں تو کوئی بادشاہ بھی کسی کے کام نہیں آسکتا۔فرض کرو ایک شخص سخت بیمار ہے۔اب بادشاہ کاخزانہ اس کے کام نہیں آسکتا۔بادشاہ کی فوجیں اس کے کام نہیں آسکتیں۔بادشاہ کا قرب اس کے کام نہیں آسکتا۔اس کے کام تو اللہ تعالیٰ ہی آسکتاہے۔جوہرقسم کی بیماریوںکودورکرنے کی طاقت رکھتاہے۔یاایک جنگل میں گذرنے والاشخص جس پر بھیڑیا یاشیراچانک جھپٹ کر حملہ کردیتاہے۔وہ بادشاہ کا چاہے کتنا ہی منہ چڑھاہو یابادشاہ کا بیٹاہی کیوں نہ ہوبادشاہ اس کے کیا کام آسکتاہے یاطبیب جو اس کاعلاج کرتاتھا وہ اس کے کیا کام آسکتاہے یاامیر جو نئے کپڑے سلادیتاتھا وہ اس کے کیاکام آسکتا ہے یاوکیل جس نے رحم کرکے اس کامقدمہ لے لیاتھا اس کے کس کام آسکتاہے۔جنگل میں وہ تن تنہا جارہاہوتاہے کہ شیر چیتایابھیڑیا اس کے سامنے آجاتاہے ایسی حالت میں وہاں اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے جوکام آتی ہے۔کوئی انسان کام نہیں آسکتا۔توجب تک انسان کے اند ریہ یقین پیدانہ ہوکہ ہرقسم کے اضطرا ر کی حالت میں اللہ تعالیٰ ہی کام آتاہے اس وقت تک و ہ مضطر نہیں کہلاسکتا۔مگربہرحال جب و ہ مضطرہونے کی حالت میں اللہ تعالیٰ کوپکار تاہے تو خدااس کے پاس دوڑتے ہوئے آجاتاہے اوراس کی ہرتکلیف اور مصیبت کودور کردیتاہے۔دنیا میں تویہ کیفیت ہوتی ہے کہ لوگ اگر دوسروں کے خلاف فریادکرنابھی چاہیں تونہیں کرسکتے افسر ان سے کہتے ہیں کہ اگر تم نے ہمارے خلاف شکایت کی تو ہم تمہاری زبان گُدّی سے کھینچ لیں گے۔و ہ ڈرتاہے کہ اگر میں نے فریاد کی توبعد میں وہی افسر مجھے اوررنگ میں مصیبتوں میں مبتلاکردیں گے۔مگریہاں یہ حالت ہوتی ہے کہ رات کی تاریکی سایہ ڈالے ہوئے ہوتی ہے اورمصیبت زدہ بندہ اپنے لحاف میں پڑاآہیں بھررہاہوتاہے اور دنیا کاکوئی فرد نہیں جانتاکہ و ہ کیاکررہاہے یاکیا کہہ رہاہے۔کوئی افسر اسے دھمکانہیں سکتا۔کوئی افسراسے فریاد کرنے سے روک نہیں سکتا۔وہ لحاف میں لیٹے لیٹے خدا تعالیٰ کے دربار میں اپنی آواز بلندکرتاہے اور کہتا ہے کہ اے خدا! فلاں نے مجھ پر ظلم کیا ہے تومیری طرف سے آپ ا س کابدلہ لے۔ظالم نہیں جانتاکہ اس کے خلاف بادشاہ تک