تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 133 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 133

خدا تعالیٰ نے ہی اس امیر آدمی کے دل میں تحریک پیداکی کہ وہ اسے کپڑے بنوادے مگرجوکامل الایمان نہیں ہوتاوہ سمجھتاہے کہ میری اضطرار کی حالت میں فلاں آدمی میرے کام آیا ہے مگروہی آدمی جس نے اسے کپڑوں کا جوڑابناکردیاتھا جب یہ ایسی بیماری میں مبتلاہوتاہے کہ اس کے لئے کھانا اور پینا حرام ہو جاتا ہے۔پانی تک اسے ہضم نہیں ہوتا۔تمام جسم کی حالت خراب ہوجاتی ہے اورچل پھر بھی نہیں سکتا توایسی حالت میں وہ امیرآدمی اس کی مدد نہیں کرسکتا بلکہ اگر کوئی اچھا لائق اوررحمدل طبیب ہوتاہے اوروہ اسے اس حالت میں دیکھتاہے تو کہتاہے تمہیں علاج پرروپیہ خرچ کرنے کی توفیق نہیں تومیں تمہیں مفت دوائی دینے کے لئے تیار ہوں تم میرے پاس رہو اور اپنے مرض کاعلاج کرو۔اب ایسی اضطرار کی حالت میں امیر اس کے کام نہیں آیا بلکہ طبیب اس کے کام آیا۔جب وہ کپڑوں کے لئے مضطرتھا توامیر آدمی اس کے کام آگیا مگر جب وہ علاج کے لئے مضطر ہواتو ایک طبیب ا س کے کام آگیا۔پھرکبھی ایساہوتاہے کہ اس پر کوئی مقدمہ بن جاتاہے۔و ہ بے گناہ ہوتاہے اس کادشمن زبردست ہوتاہے اور وہ کسی وجہ سے ناراض ہوکر اسے کسی مقدمہ میں ماخوذ کراکے عدالت تک پہنچادیتاہے۔اب اسے نہ وکیل کرنے کی توفیق ہے اورنہ اس میں خود مقدمہ لڑنے کی قابلیت ہے اوروہ حیران ہوتاہے کہ کیا کرے۔آخر کوئی رحمدل وکیل اسے مل جاتاہے اوروہ کہتاہے میں بغیر فیس کےتمہاری وکالت کرنے کے لئے تیار ہوں۔اب ایسے موقعہ پر نہ امیر اس کے کام آسکا۔نہ طبیب اس کی مشکل کودور کرسکا۔صرف وکیل اس کے کام آیا۔اسی طرح ایک اوروقت میں یہ مضطر ہوتاہے۔بوجھ اٹھائے جارہاہوتاہے کہ تھک کرچُور ہو جاتا ہے اوربوجھ اس سے گر جاتاہے۔اس میں اتنی ہمت نہیں ہوتی کہ وہ اس بوجھ کو پھر اٹھا سکے۔اب ایسے وقت میں نہ امیر اس کے کام آسکتاہے۔نہ طبیب اس کے کام آسکتاہے۔نہ وکیل اس کے کام آسکتاہے۔البتہ کوئی مضبوط زمیندارچلتے ہوئے اسے دیکھتاہے اور پوچھتاہے کہ تُویہاں کیوں بیٹھا ہے۔وہ جواب دیتاہے بوجھ مجھ سے اٹھایانہیں جاتا۔اس پر وہ زمیندار اس کابوجھ اٹھالیتا ہے۔اب یہ مضطر توتھا۔مگراس حالت میں نہ امیر اس کے کام آسکا۔نہ طبیب اس کے کام آسکا۔نہ وکیل اس کے کام آسکا۔بلکہ اس کاایک زمیندار بھائی اس کے کام آگیا۔تو ایک ہی انسان کے مختلف اضطراروں میں مختلف لو گ اس کے کام آسکتے ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَادَعَاہُ۔مطلق مضطر جس کے لئے کوئی شرط نہیں کہ وہ کس قسم کامضطر ہو۔خواہ وہ بھوکاہو۔ننگاہو۔پیاساہو۔بیمار ہو۔بوجھ اٹھائے جارہاہو۔کسی قسم کااضطرار ہو اس کی ساری ضرورتوں کو پوراکرنے والی صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے۔ہو سکتا ہے کہ ایک شخص کے پھٹے پرانے کپڑے ہوں۔توکوئی امیراس کے کام آجائے۔مگرطبیب اس کے کام نہیں آسکتا۔کوئی بیمار ہوتوطبیب اس کے کام