تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 132
مصیبتوںکودور کرتاہے۔اورکون تم کو زمین کاوارث بناتاہے۔کیاایسی صفات حسنہ رکھنے والے خدا کاکوئی ہمسر تمہیں نظرآتاہے ؟ مگرافسوس کہ تم لوگ قطعاً نصیحت حاصل نہیں کرتے۔اس آیت میںجو مُضْطَرّ کالفظ استعمال کیاگیاہے اس سے ایساشخص مراد ہے جو اپنے چاروں طرف مشکلات ہی مشکلات دیکھتاہے اوراسے اپنی کامیابی کاکوئی مادی رستہ نظر نہیں آتا۔صرف ایک جہت اللہ تعالیٰ والی باقی رہ جاتی ہے اوراسی پراس کی نظر پڑتی ہے۔گویا مُضْطَرّ کے صرف یہی معنے نہیں کہ اس کے دل میں گھبراہٹ ہو۔کیونکہ گھبراہٹ میں بعض دفعہ ایک شخص بے تحاشہ کسی طرف چل پڑتا ہے بغیر اس یقین کے کہ وہ جس طرف جارہاہے وہاں اسے امن بھی حاصل ہوگایانہیں۔بلکہ بعض لوگ گھبراہٹ میںایسی طرف چلے جاتے ہیں جہاں خود خطرہ موجو د ہوتاہے اوروہ اس سے نہیں بچ سکتے۔پس محض اضطراب کادل میں پیداہونا اضطرار پردلالت نہیں کرتا۔اضطرار پر وہ حالت دلالت کیاکرتی ہے جب چاروں طرف کوئی پناہ کی جگہ انسان کونظر نہ آتی ہو اورایک طرف نظر آتی ہو۔گویااضطرار کی نہ صرف یہ علامت ہے کہ چاروں طرف آگ نظر آتی ہو بلکہ یہ بھی علامت ہے کہ ایک طرف امن نظر آتاہو اور انسان کہہ سکتاہوکہ وہاں آگ نہیں ہے۔اس سے معلوم ہوتاہے کہ وہی دعاخدا تعالیٰ کے حضورقبول کی جاتی ہے جس کے کرتے وقت بندہ اس رنگ میں اس کے سامنے حاضر ہوتاہے کہ اسے یہ یقین کامل ہوتاہے کہ سوائے خداکے میرے لئے اورکوئی پناہ کی جگہ نہیں۔یہی وہ مضطر کی حالت ہے جسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ لَامَلْجَأَ وَلَامَنْجَأَ مِنْکَ اِلَّا اِلَیْکَ (بخاری کتاب الوضوء باب النوم علی شق الایمن) یعنی اے خداتیرے عذاب اورتیر ی طرف سے آنے والے ابتلائو ں سے کوئی پناہ کی جگہ نہیں سوائے اس کے کہ میں سب طرف سے مایوس ہوکر اورآنکھیں بند کرکے تیری طرف آجائو ں۔تو لَامَلْجَأَ وَلَامَنْجَأ والی جو حالت ہے یہی اضطرار کی کیفیت ہے اورجب خدا تعالیٰ نے اس آیت میںیہ کہا کہ اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَادَعَاہُ تواس کے معنے یہ ہوئے کہ ایسے شخص کی دعاجو اللہ تعالیٰ کے سواکسی کوملجاء و مأویٰ نہیں سمجھتا اوراللہ تعالیٰ کے سواکسی کو اپنا مَنْجاء قرار نہیں دیتا ضرور سنی جاتی ہے اوریہ شرط بلاوجہ نہیں رکھی گئی ہے۔کہ گو حقیقتاً اللہ تعالیٰ ہی ہرمضطرکاعلاج ہے مگربعض دفعہ اس کے دیئے ہوئے انعام کے ماتحت کوئی بندہ بھی دوسرے کے اضطرار کو بدلنے کی طاقت رکھتاہے۔چنانچہ بعض دفعہ ایک آدمی سخت غریب ہوتاہے۔اس کے کپڑے پھٹ جاتے ہیں اوراسے نظر نہیں آتاکہ وہ نئے کپڑے کہاں سے بنوائے کہ اچانک ایک امیر آدمی جو بعض دفعہ ہندو ہوتاہے۔بعض دفعہ سکھ ہوتاہے۔بعض دفعہ پارسی ہوتاہے۔بعض دفعہ جینی یابت پرست ہوتاہے اسے دیکھتاہے اور کہتا ہے تمہارے کپڑے پھٹ گئے ہیں آئو میں تمہیں نیاجوڑابنوادوں۔اب گوہمارے یقین کے مطابق