تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 131
تمہارے مادی فوائد کے لئے اتنے بڑے سامان پیداکئے گئے ہیں تواللہ تعالیٰ تمہاری روحانی ضرورتوںکو کس طرح انداز کرسکتاتھا۔تم جانتے ہوکہ اگراللہ تعالیٰ زمین میں ایسے نشیب پیدانہ کرتا جن میں دریائوں کاپانی سکڑ کر چلتاتوسب زمین پر پانی ہی پانی ہوتا۔اوریہ دنیا رہنے کے قابل نہ ہوتی۔اسی طرح اگر پہاڑ نہ ہوتے جوساراسال برف کے ڈھیر جمع رکھتے ہیں اورجن کی مدد سے تمام دریا ملک کوسال بھرپانی مہیاکرتے رہتے ہیںتوتمہاری بائولیاں اور حوض تمہیں کب تک زندہ رکھ سکتے تھے یہی کیفیت روحانی عالم میں بھی پائی جاتی ہے۔انسانی تدابیر جوبائولیوں اورحوضوں کی طرح ہوتی ہیں صرف عارضی طور پر ایک محدوددائرہ میں بنی نوع انسان کو کام دیتی ہیں مستقل ہدایت جوآسمانی پانی سے مشابہت رکھتی ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی آتی ہے اور وہی لوگوںکی روحانی تشنگی کوفروکرنے کاسامان مہیاکرتی ہے۔پھر جس طرح پہاڑ قسم قسم کی ضروری ادویہ اورپھل اورپھو ل اور نہ ختم ہونے والے لکڑی کے ذخائر جمع رکھتے ہیں اسی طرح روحانی ضرورتوںکوپوراکرنے کے لئے بھی ایک ایسے کلام کی ضرورت تھی جودائمی طورپر دنیا ک لئے ہدایت اور رحمت کے ذخائر اپنے اندر جمع رکھتا۔پھر جس طرح نمکین اور میٹھے پانی میں اللہ تعالیٰ نے ایک روک بنادی ہے۔اسی طرح کفراورایمان میں بھی اس نے دلائل کی ایک دیوار حائل کردی ہے جس کی وجہ سے ایمان کاپانی اپنی حلاوت کی وجہ سے اورکفرکاپانی اپنی تلخی اورمرارت کی وجہ سے فوراً پہچاناجاتاہے۔ایسے محسن خدا کادوسروں کو شریک قرار دینا اوراس کے دروازہ کوچھوڑ کر بتوں کے آگے اپنا سرجھکانا ایسے ہی لوگوں کاشیوہ ہو سکتا ہے جو عقل اور فہم سے کلیۃً عاری ہوں۔اَمَّنْ يُّجِيْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ يَكْشِفُ السُّوْٓءَ وَ (نیز بتائوتو)کون کسی بے کس کی دعا کو سنتاہے جب وہ اس (یعنی خدا)سے دعاکرتاہے۔اور(اس کی )تکلیف کو يَجْعَلُكُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قَلِيْلًا مَّا دور کردیتا اورو ہ تم (دعاکرنےوالے انسانوں)کو(ایک دن )ساری زمین کاوارث بنادے گا۔کیا تَذَكَّرُوْنَؕ۰۰۶۳ (اس قادر ِمطلق)اللہ کے سواکوئی معبود ہے؟۔تم بالکل نصیحت حاصل نہیں کرتے۔تفسیر۔فرماتا ہے۔تم یہ بھی تودیکھو کہ مصیبت زدہ انسان کی دعائوں کوکون قبول کرتاہے اورکون اس کی