تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 127
ہے۔یہی حال انبیاء کی بعثت کاہوتاہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے اَوْ كَصَيِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِيْهِ ظُلُمٰتٌ وَّ رَعْدٌ وَّ بَرْقٌ یعنی جس طرح بادلوں میںسے بارش ہوتی ہے توجہاں اس کے بے شمار فائدے اوربرکتیں ہوتی ہیں وہاں اس میں ظلمات کڑک اور بجلی بھی ہوتی ہے اور اس سے کچھ تکلیف بھی ہوتی ہے۔اوربعض اوقات نقصان بھی ہوتاہے۔اسی طرح انبیاء کی بعثت کاحال ہے۔اس میں برکتیں بھی بہت ہوتی ہیں مگرکچھ تکلیف بھی ہوتی ہے۔لیکن جس طرح بارش کی تکلیف کے باوجود اس کی ناقدری نہیں کی جاتی۔اسی طرح انبیاء کی بعثت کی بھی ناقدری نہیں کی جاسکتی۔کیونکہ ان تکالیف کی قیمت اس وقت معلوم ہوگی جب قیامت کے دن نتیجہ نکلے گا۔جب فصل پکتی ہے۔تب زمیندار کومعلوم ہوتاہے کہ یہ اندھیرے اورکڑک اور برق کتنی قیمتی تھی اگریہ نہ ہوتی توزمیندار جب اپنے کھیت میں فصل پکنے پر جاتا۔توسوائے تھوڑے سے سوکھے اور جلے ہوئے دانوں کے اس کے ہاتھ کچھ نہ آسکتا۔لیکن بارش ہونے کے بعد جب اس کی فصل پکتی ہے تب اسے معلوم ہوتاہے کہ وہ اندھیرااوروہ کڑک اور وہ بجلی کتنی مفید تھی۔وہ سمجھتاہے کہ اس کے نتیجہ میں اس کے ہاں غلّہ پیداہوا۔کپڑوںاو ردوسرے اخراجات مثلاً شادیوں بیاہوں کے لئے سامان میسر آیا۔ایک ایک دانہ کے ستر ستر اسی اسّی اورسَوسَودانے ہوئے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کے انبیاء کے ساتھ بھی کچھ تکالیف وابستہ ہوتی ہیں مگرجوانسان ان تکالیف کے باوجود اس نعمت کی قدر کرتاہے اس کی مثال ویسی ہی ہوتی ہے جیسے اس زمیندار کی جس کی فصل پر ابھی بارش برس چکی ہو۔بیشک اس کے ساتھ اندھیرے بھی ہوتے ہیں۔کڑک بھی ہوتی ہے۔بجلیاں بھی ہوتی ہیں مگرپھر بھی لوگ اس کے لئے دعائیں کرتے ہیں اوراس کے فوائد کے مقابلہ میں ان تکالیف کی کوئی پرواہ نہیں کرتے۔اگرخدا تعالیٰ کی طرف سے اعلان ہوجاتاکہ ہرزمیندار اگردس دفعہ پھسلے توپھربارش ہوگی توتم دیکھتے کہ کس طرح زمیندار بیس بیس دفعہ پھسلتے یا اگرخدا تعالیٰ یہ قانون بنادیتاکہ ہربارش کے ساتھ بیس دفعہ کڑ ک پیداہوگی توزمیندار کہتے خدایاتیس دفعہ کڑک پیداہومگر بارش ضرور ہوجائے۔غرض انبیاء کی بعثت کی بارش کے ساتھ مثال دے کر اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ ان کی بعثت کے ساتھ جو تکالیف وابستہ ہوتی ہیں۔مومن کو دلیر ی سے ان کو برداشت کرناچاہیے۔جب وہ ایک دفعہ دین کو سچا سمجھ کرقبول کرتاہے تو پھرخواہ اسے کتنی تکالیف آئیں خواہ اس کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے جائیں اسے ہرگز کمزوری نہیں دکھانی چاہیے اور دین کے ساتھ اس طرح چمٹے رہنا چاہیےجس طرح چیونٹاجسے پنجابی میں ’’کاڈھا‘‘کہتے ہیں چمٹ جاتاہے توپھر چھوڑتانہیں۔مجھے اپنے بچپن کا ایک واقعہ یاد ہے۔میاں جان محمد صاحب کشمیری قادیان کی مسجد اقصیٰ کے امام ہواکرتے تھے۔ہمارے دادا صاحب نے انہیں مقررکیاہواتھا۔وہ ہمارے گھرکاکام کاج بھی کرتے تھے۔