تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 9 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 9

ایک دن آئے گاکہ صور پھونکاجائے گا۔یعنی تمام قوموںکو ایک دوسرے کے مقابل پر کھڑاکردیاجائے گا اور آسمان اورزمین میں جوکوئی ہیں و ہ سب ڈر جائیں گے مگرباوجود اس کے کہ یہ تباہی عام ہوگی پھر بھی خدا تعالیٰ کے حضور دعا کاراستہ کھلا رہے گا۔(آیت ۸۸) فرماتا ہے۔تُو پہاڑوں کو دیکھتاہے توسمجھتاہے کہ و ہ کھڑے ہیں۔حالانکہ و ہ اس طرح چل رہے ہیں جس طرح بادل۔یعنی زمین چلتی ہے تووہ بھی اس کے ساتھ اسی طرح چلتے ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کی صنعت ہے جس نے ہرچیز کو نہایت مضبوط بنایاہے اوروہ تمہارے اعمال کو خوب جانتاہے۔(آیت ۸۹) جوشخص کوئی نیکی بجالائے گا۔اسے اپنے عمل سے بہتربدلہ ملے گا۔لیکن بدی کرنے والے کوآگ میں اوندھے منہ گرادیاجائے گا۔مگر بدی کی سزابہرحال عمل کے مطابق ہوگی زیادہ نہیں۔(آیت ۹۰و۹۱) فرماتا ہے اے محمد ؐ رسول اللہ ! تو لوگوں سے کہہ دے کہ مجھے خدا نے یہ حکم دیا ہے کہ میں اس شہر کے رب کی عبادت کروں۔یعنی اس جلوہ کے پیچھے چلوں جو مکہ میں ابراہیم ؑکے ذریعے ظاہر ہوا تھا اور عملاً فرمانبرداری کا نمونہ بن کر دکھائوں اور قرآن سب کو پڑھ کر سنائوں۔میں کسی پرزبردستی نہیں کروں گا بلکہ میرا کام صرف لوگوں کو پیغام حق پہنچانا ہے۔آگے ماننا یا نہ ماننا ان کا کام ہے۔مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ خدا تعالیٰ خاموش بیٹھا رہے گا۔وہ آسمان سے اترے گا اور ایسے نشان دکھائے گا جو تمہارے سامنے خدا تعالیٰ کے وجود کو لاکر کھڑا کردیں گے۔(آیت ۹۲تا ۹۴)