تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 125
عَلَیْہِ حَائِطٌ ایسابا غ جس کے گرد دیوار ہو۔(اقرب) بَھْجَۃٌ۔اَلْبَھْجَۃُ کے معنے ہیں اَلْحُسْنُ۔خوبصورتی۔وَیُقَالُ ھُوَ حُسْنُ لَوْنِ الشَّیْءِ اور یہ بھی کہاجاتاہے کہ بَھْجَۃٌ کسی چیز کے رنگ کی خوبصورتی کانام ہے۔وَقِیْلَ ھُوَ فِی النَّبَاتِ النَّضَارَۃُ۔وَفِیْ الْاِنْسَانِ ضَحِکُ اَسَارِیْرِ الْوَجْہِ اَوْظُھُوْرُالْفَرَحِ اَلْبَتَّۃَ۔بعض ائمہ لغت کہتے ہیں کہ بَھْجَۃٌ کالفظ اگرنباتات کے متعلق استعمال ہوتواس کے معنے تازگی اور سرسبزی کے ہوتے ہیں اورجب انسان کے متعلق اس لفظ کااستعمال ہوتویہ معنے ہوں گے کہ اس کا چہرہ تمتمااٹھا یایہ کہ اس سے خوب خوشی ظاہر ہوئی۔(اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے۔تم آسمانی اور زمینی نظام پر غور کرکے دیکھو کہ یہ زمین اورآسمان کس نے پیداکئے ہیں اورپھر کون ہے جو بادلوں سے پانی اتار کر قسم قسم کے باغ اگاتاہے حالانکہ تم ایک درخت بھی پیدا نہیں کرسکتے تھے۔پھرسوچوکہ وہ خداجس نے یہ نظام کائنات بنایا و ہ بہتر ہے یا وہ معبودان باطلہ بہتر ہیں جو ان باغوں اورپانیوںاور آسمان اور زمین سب کے محتاج ہیں۔تم اس خداجیسا کوئی اَور دکھائو توسہی۔یقیناًتم نہیں دکھاسکتے۔مگرکتنے افسوس کی بات ہے کہ لو گ پھر بھی عقل سے کام نہیں لیتے اوروہ خوامخواہ خدا تعالیٰ کے ہمسر بناتے چلے جاتے ہیں۔اس آیت کے پہلے حصہ میں غائب کی ضمیر استعمال ہوئی ہے۔لیکن دوسرے حصہ میں اَنْبَتْنَا کہہ کر جمع متکلم کی ضمیر استعمال کی گئی ہے۔یہ قرآنی کمالات میں سے ایک بہت بڑاکمال ہے کہ وہ بعض دفعہ ایک چھوٹے سے لفظ کے ذریعے ایک بہت بڑااشار ہ کردیتاہے۔اس جگہ بھی غائب سے متکلم کی طرف ضمیر بلاوجہ نہیں پھیری گئی۔بلکہ اس لئے پھیری گئی ہے کہ زمین و آسمان کی پیدائش اورآسمان سے بارش نازل ہونے اور اس کے ذریعہ زمین سے ہرقسم کی سبزیاں اور باغات پیدا ہونے پرجب انسان غور کرتاہے تو خدا تعالیٰ کی قدرت او راس کے جلال اورجبروت کانقشہ اس کی آنکھوں کے سامنے آجاتاہے اورو ہ اسے غائب نہیں بلکہ حاضر سمجھنے لگتاہے۔چنانچہ اسی مضمون کی طرف اشارہ کرنے کے لئے اس آیت میں اَنْبَتْنَا کالفظ ا ستعمال کیاگیاہے۔گویا خدابندوں کے سامنے کھڑاہے اوروہ انہیں اپنے احسانات گنوارہاہے۔پس یہ غلطی نہیں بلکہ قرآن کریم کے اعلیٰ درجہ کے کمالات میں سے ایک بڑا کمال ہے۔پھر اس جگہ اللہ تعالیٰ نے ظاہری پیدائش عالم کو پیش کرکے روحانی پیدئش کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔اور بتایا ہے کہ جس طرح مادی دنیا میں زمین وآسمان کی پیدائش اوربادلوں سے بارش نازل ہونے کاسلسلہ جاری ہے اسی طرح روحانی دنیا میں بھی ایسا ہی قانون جاری ہے۔اورانبیاء کی آمد بھی ایک بارش سے مشابہت رکھتی ہے جس طرح