تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 114
تودنیا پر یہ عذاب کیوں آتے۔یہی بات حضرت صالح علیہ السلام کے مخالفین نے بھی کہی کہ یہ سب تیری نحوست کانتیجہ ہے۔حضرت صالح علیہ السلام نے ان کی بات سن کرکہا۔کہ تمہارانحس اورمبارک شگون تو خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔اگر تم ا س کو سزاپر آمادہ کروگے تووہ تمہیں سزادے گااور انعام پر آمادہ کروگے توانعام دے گا۔لیکن مجھے بھی تمہار ی خیر نظرنہیں آتی۔کیونکہ تم ایک ایسی قوم ہو جوسچے دین کو چھوڑ بیٹھی ہے۔اس لئے بظاہر یہی معلوم ہوتاہے کہ تم سزاہی پائو گے۔وَ كَانَ فِي الْمَدِيْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُّفْسِدُوْنَ فِي اورشہر میں نو آ دمی تھے جو ملک میں فساد کر تے تھے اوراصلاح نہیں کرتے تھے۔الْاَرْضِ وَ لَا يُصْلِحُوْنَ۰۰۴۹قَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰهِ انہوں نے کہا کہ تم سب اس پر اللہ(تعالیٰ )کی قسم کھائو کہ ہم اس کے لَنُبَيِّتَنَّهٗ۠ وَ اَهْلَهٗ ثُمَّ لَنَقُوْلَنَّ لِوَلِيِّهٖ مَا شَهِدْنَا اوراس گھروالوں پر را ت کے وقت حملہ کریںگے۔پھرجو بھی اس کے خون کامطالبہ کرنے آئےگا مَهْلِكَ اَهْلِهٖ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ۰۰۵۰وَ مَكَرُوْا مَكْرًا وَّ مَكَرْنَا ہم ا س سے کہیں گے کہ ہم نے اس کے اہل کی ہلاکت (کے واقعہ )کو نہیں دیکھااورہم سچے ہیں۔مَكْرًا وَّ هُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ۰۰۵۱فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ اورانہوں نے ایک تدبیر کی اورہم نے بھی ایک تدبیر کی اور وہ جانتے نہیں تھے۔پھردیکھ ان کی تدبیر کانتیجہ مَكْرِهِمْ١ۙ اَنَّا دَمَّرْنٰهُمْ وَ قَوْمَهُمْ اَجْمَعِيْنَ۰۰۵۲فَتِلْكَ کیانکلا۔ہم نے ان کو اوران کی قو م کو سب کو تباہ کرکے رکھ دیا۔پس (دیکھ)یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلموں بُيُوْتُهُمْ خَاوِيَةًۢ بِمَا ظَلَمُوْا١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ کی وجہ سے گرے ہوئے ہیں۔اس میں علم والی قوم کے لئے بڑانشان ہے۔