تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 100 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 100

وَ اِنِّيْ مُرْسِلَةٌ اِلَيْهِمْ بِهَدِيَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ يَرْجِعُ اور(میں نے فیصلہ کیا ہے کہ)میں ان کی طرف ایک تحفہ بھیجوں گی۔پھر دیکھوں گی کہ میرے ایلچی کیا جواب الْمُرْسَلُوْنَ۰۰۳۶فَلَمَّا جَآءَ سُلَيْمٰنَ قَالَ اَتُمِدُّوْنَنِ لےکر واپس آتے ہیں۔پھر جب وہ تحفہ سلیمانؑ کے سامنے لاکررکھا گیا تواس نے کہا۔کیا تم مال کے ذریعہ میری بِمَالٍ١ٞ فَمَاۤ اٰتٰىنِۧ اللّٰهُ خَيْرٌ مِّمَّاۤ اٰتٰىكُمْ١ۚ بَلْ اَنْتُمْ مدد کرنا چاہتے ہو۔(اگر یہ بات ہے تویادرکھو کہ) اللہ نے جوکچھ مجھے دیا ہے وہ اس سے بہت بہتر ہے جوتم کودیاہے بِهَدِيَّتِكُمْ تَفْرَحُوْنَ۰۰۳۷اِرْجِعْ اِلَيْهِمْ فَلَنَاْتِيَنَّهُمْ اور(معلوم ہوتاہے کہ )تم اپنے تحفہ پر بڑے نازاں ہو۔(اے ہد ہد )تو ان کی طرف لوٹ جا اور(ان سے کہہ بِجُنُوْدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا وَ لَنُخْرِجَنَّهُمْ مِّنْهَاۤ اَذِلَّةً وَّ دے کہ)میں ایک بڑے لشکر کے ساتھ ان کے پاس آئوں گا۔ایسا لشکر کہ اس کے مقابلہ کی ان کو طاقت نہ ہوگی اور هُمْ صٰغِرُوْنَ۰۰۳۸ میں ان کو اس (ملک سے ) (مفتوح ہونے کے بعد) ایسی حالت میں نکال دوں گا کہ وہ بادشاہت (کی عزت ) کھو چکے ہوںگے۔حلّ لُغَات۔اَلْقِبَلُ۔اَلْقِبَلُ اَلطَّاقَۃُ طاقت۔یُقَالُ مَالِیْ بِہٖ قِبَلٌ۔محاورہ میں کہا جاتا ہے مجھے اس کی کوئی طاقت نہیں۔(اقرب) صٰـغِرُوْنَ۔صٰغِرُوْنَ صَاغِرٌ سے جمع کا صیغہ ہے اور اَلصَّاغِرُ کے معنے ہیں اَلْمُھَانُ وَالرَّاضِیْ بِا لذُلِّ وَالضَّیْمِ یعنی رسوا شدہ۔وہ شخص جو ذلت اور ظلم پر رضا مند ہو جائے گویا یہ لفظ صَغَار سے ہے جس کے معنے ذلت اور ظلم کے ہیں۔(اقرب) تفسیر۔جب درباری اپنا مشورہ پیش کرچکے تو ملکہ سبا نے کہا کہ تمام حالات پر غور کرنے کے بعد میں نے