تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 96
بسر کرتا ہے اورایک مربع رکھنے والاکشائش کی حالت میں اپنی زندگی بسرکرتاہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ایک شخص نے عقلمندی سے وہ زمین اختیار کی جس نے اپنی طاقت خرچ نہیں کی تھی اور دوسرے نے اپنے او راپنے خاندان کے لئے اس زمین کوترجیح دی جواپنی طاقتوںکو کھوچکی تھی۔نتیجہ یہ ہواکہ زیادہ روپیہ خرچ کرنے کے باوجود وہ گھاٹے میں رہااورتھوڑاخرچ کرنے والا فائدہ میں رہا۔بیشک شہری لحاظ سے وہ زمین بھی مفید ہوتی ہے۔اورمکانوں کے لئے گراں قیمت پر فروخت ہوجاتی ہے۔مگرجہاں تک فصل کاسوال ہے خالی پڑی ہوئی زمین زیادہ مفید ہوتی ہے۔اورزمیندارہ اصول بھی یہی ہے کہ جب کسی زمین سے زیادہ فائدہ اٹھاناہوتاہے تو اس کو کچھ عرصہ کے لئے خالی چھوڑ دیاجاتاہے۔عرب میں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی ہم جانتے ہیں کہ یہ محض خدا تعالیٰ کا فضل تھا اورپیشگوئیوں کے مطابق عر ب میں ہی آپ کا مبعوث ہونا ضروری تھا۔مگر سوال یہ ہے کہ خدابھی اپنے سارے کام حکمت کے ماتحت کرتاہے۔اسی لئے اس کاایک نام حکیم ہے۔یونہی بلا سوچے یا بغیر کسی حکمت کے وہ کوئی کام نہیں کرتا اورجبکہ اس کاہرکام حکمت کے ماتحت ہوتا ہے توہمیں تسلیم کرناپڑتا ہے کہ اس کارسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوعرب میں مبعوث کرنا کسی بہت بڑی حکمت کے ماتحت تھا۔اوروہ حکمت یہی تھی کہ عر ب وہ ملک تھا جسے ہزارہا سال سے دنیا میں کوئی عزت کا مقام حاصل نہیں ہواتھا۔بے شک عر بوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی۔آپ کی تکفیرو تکذیب کی۔آپ کو برابھلاکہا۔آپ کو مٹانے کے لئے انہوں نے ہرممکن ذریعہ اختیار کیا۔مگراس کے باوجود جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ آواز عرب میں گونجتی تھی۔کہ اے عربو! میں تمہیں دنیا کابادشاہ بنانے کے لئے آیا ہوںتوان کا دل جلدی جلدی حرکت کرنے لگ جاتاتھا وہ کہتے تھے۔یہ کیسی آواز ہے جوہمارے کانوں میںآرہی ہے پھر وہ کچھ اورسوچتے اورکہتے یہ تو وہی آواز ہے جس کے لئے ہم اپنے باپ داداکے زمانہ سے ترستے چلے آرہے تھے۔چنانچہ جب انہیںاپنی مخالفت بھولی، عداوت ان کے دلوں سے دورہوئی۔اس آواز نے ان کے قلوب میں ہیجان پیداکردیا۔اوروہ دیوانہ وار لبیک یارسول اللہ لبیک یارسول اللہ کہتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دوڑ پڑے۔کیونکہ انہوں نے سمجھ لیا کہ ہماری ترقی کا زمانہ آگیا۔ان کے دبے ہوئے جذبات اُبھر آئے۔ان کی دیرینہ خواہشات جوش میں آگئیں اور ہرروک کو توڑ کر وہ اس آواز دینے والے انسان کے اردگرد جمع ہوگئے۔مؤرخ لکھتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس آواز پر یوں معلوم ہوتاہے کہ عرب کاخشک صحراسمندر