حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 92 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 92

ہے۔اس وقت وہ مزکّی آتا ہے۔اور اصلاح کرتا ہے۔جب قوم اور ملک ضلال مبین میں پھنس جاتا ہے تو ایک انسان خدا سے تعلیم پا کر آتا ہے۔جو قوم کو نجات دیتا ہے۔اور تزکیۂ نفس کرتا ہے۔خیالی ریفارمروں اور جھوٹے دعویداروں اور خدا تعالیٰ کے مامور و مرسلوں میں بھی امتیاز اور فرق یہی ہوتا ہے۔کہ اوّل الذکر کہتے ہیں۔پر کر کے نہیں دکھاتے۔اور تزکیہ نفس نہیں کر سکتے۔مگر خدا کے مامور اور مرسل جو کہتے ہیں۔وہ کر کے دکھاتے ہیں۔جس سے تزکیہ نفوس ہوتا ہے۔ان کے قلوب صافیہ سے جو کچھ نکلتا ہے۔وہ دوسروں پر مؤثر ہوتا ہے۔ان میں جذب اور اثر کی قوّت ہوتی ہے جو دنیادار ریفارمروں میں نہیں ہو سکتی۔اور نہیں ہوتی۔اور نہیں ہوئی۔پس اس نافہم کے سوال کا جواب اس سے بخوبی حل ہو سکتا ہے۔جو کہتا ہے۔کہ کسی کے آنے کی کیا ضرورت ہے؟ ان آیات میں اﷲ تعالیٰ نے مامور کے آنے کا وقت صاف بتا دیا ہے جب کہ فرمایا۔۔اس کی آمد اور بعثت سے پہلے ایک کُھلی گمراہی پھیلی ہوئی ہوتی ہے اور میں نے ابھی تمہیں بتایا ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے دنیا کی کیا حالت تھی اور پھر کس طرح آپؐ نے آ کر اصلاح کی اور تزکیہ نفوس فرمایا۔جو لوگ علم تاریخ سے واقف ہیں۔ان پر یہ امر بڑی صفائی کیساتھ منکشف ہو سکتا ہے۔اس سے بڑھ کر تزکیہ نفوس کا کیا ثبوت مل سکتا ہے۔کہ آپؐ نے کوئی موقع انسان کی زندگی میں ایسا جانے نہیں دیا جس میں خدا پرستی کی تعلیم نہ دی ہو۔میں ایک چھوٹی سی اور معمولی سی بات پیش کرتا ہوں۔پاخانہ کے لئے جاناایک طبعی تقاضا اور صرورت ہے۔میں دعوٰی سے کہتا ہوں کہ اس وقت کے لئے کسی ہادی اور مصلح نے کوئی تعلیم انسان کو نہیں دی۔مگر ہمارے ہادیٔ کامل صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس وقت بھی انسان کو ایک لطیف اور بیش قیمت سبق خدا پرستی کا دیا ہے۔جس سے آپ کے اُن تعلقاتِ محبّت کا جو خدا سے آپؐ کے تھے صاف پتہ لگ سکتا ہے۔اور یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ انسان کو کس بُلند مرتبہ پر پہنچانا چاہتے تھے۔چنانچہ آپؐ نے اس وقت تعلیم دی ہے۔اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْخُبْثِ وَ الْخَبَائِثِ۔یعنی جس طرح پر ان گندگیوں کو تُو نکالتا ہے۔دوسری گندگیوں سے جو انسان کی روح کو خراب کرتی ہیں بچا۔جیسے پاخانہ جاتے وقت دعا تعلیم کی ویسے ہی پاخانہ سے نکلتے وقت سکھایا ہے۔غُفْرَانَکَغور تو کرو کہ کس قدر تزکیہ نفس کا خیال ہے۔حصرت ابوالملّۃ ابوالخفاء ابراہیم علیہ السلام اپنی دعا میں کہتے ہیں (البقرہ:۱۳۰)پھر اگر مزکّی کی ضرورت نہ تھی۔تو اس دعا کی کیا ضرورت؟ تلاوت کو اس لئے مقدم رکھا کہ علم تزکیہ کے مراتب سکھاتا ہے اور تزکیہ کو بعد میں اس لئے رکھا ہے کہ بَدُوں تزکیہ علم کام نہیں آتا