حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 91
کہ جبکہ یہ حدیث صحابہ تک پہنچتی ہے۔اور کذب کا کوئی احتمال نہیں رہتا تو پھر عمل در آمد کا نہ ہونا صریح اس امر کی دلیل ہے کہ ایک قوّت اور کشش کی ضرورت ہے۔جو نہیں پائی جاتی۔ریل گاڑی کی گاڑیوں کو دیکھو کہ اگر ان میں باہم زنجیروں کے ذریعہ پیوند بھی قائم کیا گیا ہو لیکن سٹیم انجن ان کو کھینچنے والا نہ ہو تو کیا کوئی یقین کر سکتا ہے کہ وہ گاڑیاں باہم ملاپ کی وجہ سے ہی چل نکلیں گی؟ ہرگز نہیں!اس سے یہ مسئلہ بھی حل ہو جاتا ہے کہ نرِ اتحاد بھی کچھ نہیں کر سکتا۔جب تک اس وہدت کے مفاد سے متمتع کرنے والا کوئی نہ ہو۔غرص ہر ہال میں ایک امام کی ضرورت ثابت ہوتی ہے۔اسی لئے نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی نسبت فرمایا کہ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیْھِمْ جو کچھ آپؐ فرماتے اور تلاوت کرے وہی کر کے دکھا دیتے اور اپنے عمل سے اس کو اور بھی مؤثر بنا دیتے۔یہ قاعدہ کی بات ہے کہ واعظ اگر خود کہہ کر عمل کرنے والا نہ ہو تو اس کا وغط بالکل بے معنی اور فضول ہو جاتا ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اسی لئے مزکّی ٹھہرے۔کہ آپؐ جو تعلیم دیتے تھے۔پہلے خود کر کے دکھا دیتے تھے۔پانچ وقت نماز پڑھنے کا حکم دیا اور خود پڑھ کر دکھادی۔دیکھو امام کو کس قدر التزام کرنا پڑتا ہے۔پھر آپؐ پانچوں نمازوں کے خود امام ہوا کرتے تھے۔اس سے قیاس کر لو کہ آپؐ کو کس قدر التزام کرنا پڑتا تھا۔پھر ان پانچوں نمازوں کے علاوہ تہجّد اور دوسرے نوافل بھی پڑھتے اور بعص وقت تہجّدمیں اتنی اتنی دیر تک اﷲ تعالیٰ کے حضور کھڑے رہتے کہ آپؐکے پائے مبارک متورّم ہو جاتے۔جس سے آپؐ کا یہ التزام بھی پایا جاتا ہے کہ عام اور فرص نمازوں سے زیادہ بوجھ آپؐ نے اپنے اوپر رکھا ہوا تھا۔پھر روزہ کی تعلیم دی۔آپؐنے ہفتہ میں دوبار مہینہ میں تین بار روزے۔اور سال بھر میں معین مہینہ روزے رکھ کر دکھادئے۔اور شعبان اور شوّال میں بھی روزے رکھا کرتے۔گویا قریب چھ مہینے سال میں روزے رکھ کر بتا دئے۔حج کر کے دکھادیا۔خُذُوْا عَنِّیْ مَنَا سِکَکُم۔پھر زکوٰۃ کی تعلیم دی۔زکوٰۃ لے کر اور کرچ کر کے دکھادی۔اسی طرح جو تعلیم دی اُسے خود کر کے دکھا دیا۔جس سے تزکیہ نفوس ہوا۔ایک طرف تلاوت آیات کرتے تھے اور دوسری طرف تزکیہ نفوس کرے تھے۔امام ابوحنیفہؒ ابھی امام نہ تھے۔مگر نماز۔روزہ۔حج کہ حضور علیہ الصلوٰث والسلام نے تعامل سے سب کچھ پہلے ہی سکھا دیا ہوا تھا۔اگر ایک بھی حدیث دنیا میں قلمبند اور جمع نہ کی جاتی۔تب بھی یہ مسائل بالکل صاف تھے۔غرض اﷲ تعالیٰ کے فضل کے لئے مزکّی کی ضرورت ہوتی ہے۔ورنہ بڑی بڑی کتابوں والے عبدالطاغوت ہو جاتے ہیں اور جب یہ حالت پیدا ہوتی اور قوم کے دماغ اور دل ( علماء اور مشائخ ) کی حالت بگڑ جاتی