حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 78 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 78

کچھ وہ سنے گی سوکہے گی۔اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گی۔اور وہ میری بزرگی کرے گی۔اس لئے کہ وہ میری چیزوں سے پاوے گی۔اور تمہیں دکھلائے گی۔سب چیزیں جو باپ کی ہیں۔میری ہیں۔اس لئے میں نے کہا کہ وہ میرے چیزوں سے لے گی اور تمہیں دکھاوے گی۔یوحنا ۱۶ باب ۱۲۔لاکن فارقلیط روہ القدس وہ جسے مَیںباپ کی طرف سے بھیجوں گا۔روحِ حق جو باپ سے نکلتی ہے تو وہ میرے لئے گواہی دے گی اور تم بھی گواہی دو گے۔کیونکہ تم شروع سے میرے ساتھ ہو۔میں نے تمہیں یہ باتیں کہیں کہ تم ٹھوکر نہ کھاؤ(یوحنّا ۱۵ باب ۲۶،۱۶ باب ۱۔اس بشارت پر غور کرو۔صاف صاف نبیٔ ؐ عرب کے حق میں ہے۔روح القدس اور روح الحق ہی قرآن لائے۔دیکھو (نحل:۱۰۳) (مومن:۱۶) بلکہ قرآن نے بڑے زور، ہاں نہایت بڑے زور سے کہا ہے۔آنحضرت صلی ا علیہ وسلم مظہرِاتم اور حق ہیں۔غور کرو۔۱۔(بنی اسرائیل:۸۲) ۲۔(فتح: ۱۱) ۳۔(انفال:۱۸) عیسائی خوش اعتقاد جسیے الوہیت مسیحؑ اور کفّارے پر یقین کر بیٹھے ہیں۔ایسے ہی یہ بھی خیال و دہم کرتے ہیں کہ یہ بشارت مسیح کے حق میں اور یا روح الحق کے حق میں ہے۔جو حواریوں پر اُتری۔حالانکہ یہ خیال عیسائیوں کا نہایت غلط ہے۔اوّل تو اس لئے۔مسیحؑ فرماتے ہیں میرے وصایا کو محفوظ رکھو۔پھر اس رُوح کی خبر دیتے ہیں۔پس اگر وہ روہ مراد ہوتی جو حواریوں پر اتری تو اس کی نسبت ایسی تاکید ضروری نہ تھی۔کیونکہ جس پر نازل ہوتی ہے۔اُسے اشتباہ ہی کیا ہوتا ہے۔حواری تو نزول رُوح کے عادی تھے۔دومؔ یوحنا باب ۷ میں اس رُوح کی تعریف میں لکھا ہے۔وہ روحِ پاک میرے نام سے ہر بات تم کو سکھلا دیگی۔اور یاد دلائے گی تم کو وہ باتیں جو مَیں نے کہی ہیں۔اعمال ہواریوں سے معلوم نہیں ہوتا کہ مسیحؑ کے فرمانے سے حواری کچھ بھول گئے تھے۔اور اس روہ القدس نے جو حواریوں پر اتری۔حواریوں کو کچھ یاد دلایا۔