حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 79
ہاں نبیؐ عرب نے بہت کچھ یاد دلایا۔عیسائی مسیحؑ کی خالص ہاں صرف انسانیت بھول گئے تھے۔عام بُت پرستوں کی طرح الوہیت کو انسانیت سے ملا دیا تھا۔مسیحؑ کو معبود بنا رکھا تھا۔اسی کو کفارہ اپنے معاصی کا بنا رہے تھے۔نبیؐ عرب نے سب کچھ یاد دلایا اور سیدھا راستہ بتایا۔سومؔ۔یوحنا ۱۵ باب ۲۶،۱۶ باب ۱میں ہے وہ روح میرے لئے گواہی دیگی۔اور تم بھی گواہی دیتے ہو۔حواری تو مسیحؑ کو خوب جانتے تھے۔انہیں گواہی کی حاجت نہ تھی اور اوروں کو اس روح نے جو حواریوں پر اتری۔گواہی دی نہیں۔اور روح القدس نے کوئی گواہی دی ہے تو وہی گواہی ہے جو حواریوں نے دی۔اس رُوح القدس نے حواریوں سے علیحدہ ہرگز کوئی گواہی نہیں دی۔چہارمؔ۔مسیحؑ نے فرمایا۔میرا جانا بہتر ہے۔مَیں جاؤں تو وہ ائے۔یوحنا ۱۶ باب ۷۔صاف عیاں ہے مسیحؑ کے وقت وہ روح نہ تھی۔حالانکہ روح القدس یوحنا بپتسمہ دینے والے کے وقت سے مسیح کیساتھ تھی۔پنجم ؔ۔یوحنا ۱۶ باب ۷ میں ہے۔وہ سزا دیگی اور بالکل ظاہر ہے۔وہ روہ جو حواریوں پر اتری بلکہ خود مسیحؑ اور مسیحؑ والی روہ سزا دینے کے لئے نہ تھی۔دیکھو یوحنا ۱۳ باب ۴۷ ششم۔یوحنا ۱۶ باب ۱۲ میں ہے۔مجھے بہت کچھ کہنا ہے۔پر اب تم برداشت نہیں کر سکتے۔وہ روح جس کی بشارت ہے۔سب کچھ بتائے گی۔یہ فقرہ بڑی سخت حجّت عیسائیوں پر ہے۔کیونکہ جو روح القدس ہواریوں پر اتری۔اُس نے کوئی سخت اور نیا حکم نہیں سنایا۔تثلیث اور عموم دعوت غیر قوموں کی بلاہٹ تو بقول عیسائیوں کے خود مسیحؑ فرما چکے تھے۔اور پولوس کی کارستانیوں نے تو کچھ گھٹایا ہے بڑھایا نہیں۔ہاں اس رُوح القدس، اس روح الحق نے جس کو فارقلیط کہیئے پر کلیٹاس۔پارا کلیٹوس کہیئے،محمدؐ کہیئے۔احمدؐ بولیئے۔عبداﷲ اور آمنہ کے گھر جنم لے۔صدہا احکام حِلّت و حُرمت اور عبادات اور معاملات کے قوانین مسیحی تعلیم پر بڑھا دئے۔فِدَاہُ اَبِیْ وَ اُمِّیْ! ہفتم ؔض یوحنا ۱۶ باب ۱۳۔وہ اپنی نہ کہے گی اور یہی مضمون قرآن میں محمدؐ بن عبداﷲ کی نسبت ہے ۔(نجم:۴،۵) (انعام:۵۱) (یونس:۱۶) (فصل الخطاب حصّہ دوم طبع دوم صفحہ۷۴۔۷۷) ۹،۱۰