حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 73
ناستک۔شہوت پرست۔دغاباز۔دروغ گو۔خود غرض۔فریبی۔حیلہ باز وغیرہ بُرے آدمیوں کی صُحبت نہ کرے۔آپت (اہل کمال) یعنی جو سچ بولنے والا دھرماتما اور دوسروں کی بہبودی جن کو عزیز ہے۔ہمیشہ ان کی صحبت کرنے کا نام سریشٹ آچار ( پاکیزہ چلن) ہے۔ستیارتھ سملاس صفحہ ۶ ستیارتھ صفحہ ۲۱۱ فقرہ ۵۳۔منو ۷۔۱۹۵،۱۹۶۔دشمن کو چاروں طرف محاصرہ کر کے رکھے اور اس کے ملک کو تکلیف پہنچا کر چارہ۔خوراک۔پانی اور ہیزم کو تلف و خراب کر دیوے۔دشمن کے تالاب شہر کی فصیل اور کھائی کو توڑ پھوڑ دیوے۔رات کے وقت ان کو خوف دیوے اور فتح پانے کی تجاویز کرے او نادان۔کیا ناپاک اور بے ایمان اور منکر سے پاک اور ایماندار اور حق کے ماننے والے دِلی تعلق پیدا کر سکتے ہیں۔چیت رامیوں۔اگھوریوں۔ناستکوں سے اب تجھے تعلق ہو سکتا ہے اور کیا سعید و شقی۔بُرے بھلے دیواسرین سنگرام ( جنگ) چاہیئے۔یا باہم پریم۔اے سچائی سے دانستہ دشمنی کرنیوالے۔فلاح سے کوسوں بھاگنے والے کبھی تو غور سے کام لے۔کیا یہ تیرے اعتراض کچھ بھی راستی اپنے اندر رکھتے ہیں۔اور اظہارِ حق کے لئے ایک اور آیت جو تمہارے اعتراض کی بیخ کنی کر دے۔تجھ کو سناتا ہوں۔ ۔ ۔( نورالدّین طبع سوم صفحہ ۲۱۲۔۲۱۳) ۔احسان کرو تم ان سے اور انصاف کرو طرف ان کے تحقیق اﷲ دوست رکھتا ہے انصاف کرنے والوں کو۔یہ آیت کسی بے قابو مجذوب کا قول نہیں ہے نہ کسی فلسفی کا خام خیال ہے۔بلکہ یہ اس شخص کافرمودہ ہے جو ایسی سلطنت کا بادشاہ تھا۔جو اتنی قدرت رکھتی تھی۔اور جس کا انتظام ایسا عمدہ تھا کہ جیسے اصول کو چاہتی نافذ کرسکتی تھی۔اور فرقوں اور اشخاص نے دین میں بھی اور سیاست مُدن میں بھی مذہبی آزادی بخشنے کی ترغیب دی ہے مگر اس کے عمل در آمد کی تاکید صرف اس وقت تک کی ہے۔جب تک وہ خود بے قابو اور کمزور رہے ہیں۔لیکن شارع اسلام نے مذہبی آزادی کی ترغیب ہی نہیں دی بلکہ اُ کو احکامِ شریعت میں داخل کر دیا ہے رسولؐ اﷲ نے بنی حارث اور بنی نجران کے بڑے اسقف اور اساقفہ کو اور اُن کے مریدوں اور راہبوں کو