حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 70
وہی اﷲ جس کے سوا کوئی دوسرا پرستش و فرماں برداری کے لائق نہیں۔اَلْمَلِکُ پورا مالک اشیاء کی خلق و بقاء پر۔اَلْقُدُّوْسُ۔تمام ان اسباب عیوب سے پاک جن کو حس دریافت کر سکے۔یا خیال تصوّر کرے یا وہم اس طرف جس سکے۔یا قلبی قوٰی سمجھ سکیں۔اَلسَّلَامُ تمام عیوب سے مبرّا۔سلامتی کا دینے والا۔الْمُؤْمِنُ۔امن کا بخشنے والا۔اپنے کمالات و توحید پر دلائل قائم کرنے والا۔اَلْمُھَیْمِنُ۔سب کے اعمال کا واقف سب کا محافظ۔اَلْعَزِیْرُّ۔بے نظیر۔سب پر غالب۔ذرّہ ذرّہ پر متصرف۔اَلْجَبَّارُ۔سنوارنے والا ہمارے بگاڑوں پر اصلاح کے سامان پیدا کرنے والا۔اصلاح کی توفیق دینے والا۔اَلْتَکَبِّرُ۔تمام مخلوقی عیوب اور مخلوق کے اوصاف سے مبرّا۔تمام چھوٹوں بڑوں آسمانی اور زمینی شریک اور ساجھی سے اس کی ذات بلند۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ۲۵۴،۲۵۵) ۲۵۔ ۔: وہ خود بخود موجود جس کا نام ہے۔۔ہر ایک چیز کا کامل حکمت کے ساتھ اندازہ کرنے والا۔۔ہر ایک چیز کو اس کے اندازہ کے مطابق بے نقص و تفاوت طاہر کرنیوالا۔… اسی اندازہ اور عمدگی سے صورتوں اور شکلوں کا عطا کرنے والا۔اسی کے ایسے نام ہیں کہ تمام خوبیوں پر شامل ہوں۔اسی کی تسبیحیں کرتی اور اسی کی پاک اور کامل ترین ہستی کو تمام وہ چیزیں جو آسمان و زمین میں ہیں ثابت کرتی ہیں۔وہ غالب جس کے تمام کام حکمتوں پر مبنی ہیں۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۲۵۵) :ا ﷲ تعالیٰ ہے اندازہ کرنے والا رخلق کے معنے لُغتِ عرب میں تقدیر کے بھی آئے ہیں۔اسی واسطے(بقرہ :۳۰) بلفظ ماضی میں صحیح ہے) وجود بخشنے والا اور رنگ برنگ صورتیں عطا کرنے والا۔تمام صفاتِ کاملہ سے موصوف تمام نقصوں سے منّہ۔نیست سے ہست کرنے والا۔کیونکہ یہ ایک کمال ہے اور خدا کو سب کمالات حاصل ہیں خدا کو انسان اپنے پر قیاس نہ کرے۔کیونکہ انوپیم لَیْسَ کَمِثْلِہٖہے۔(نورالدّین طبع سوم صفحہ دیباچہ) خ خ خ