حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 69
۲۳۔۔وہ ذات پاک جس کا نام ہے اﷲ۔تمام صفات کاملہ سے موصوف۔تمام برائیوں سے پاک۔وہی جس کے سوا کوئی بھی پرستش و فرمانبرداری کے لائق نہیں۔اپنی ذات کو جو تمام غیبوں کا غیب ہے۔آپ ہی جانتا ہے تمام ان اشیاء کو جو موجود ہو کر فنا ہو گئیں یا اب تک ابھی پیدا ہی نہیں ہوئیں صرف اس کے علم میں ہی ہیں اور تمام موجودات کو جانتا ہے۔وہ رحمان بُروں بھُلوں سب کا روزی رساں۔بن مانگے فضل کرنیوالا۔وہ رحیم جو پہلوں کو اپنے فضل و رحم سے بخشے اور کسی کے سوال و محنت کو ضائع نہ کرے۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۲۵۴) ۲۴۔ ۔اسلام کا اصلی سر چشمہ اور اس کا حقیقی منبع اﷲتعالیٰ کی ذات پاک ہے جس کا نام السَّلَام ہے۔قرآن کریم میں اس مبارک نام کا مبارک ذکر اس کلمہ طیّبہ میں آیا ہے۔ یعنی وہی اﷲ ہے۔کوئی معبود اور کاملہ صفات سے موصوف اس کے سوا نہیں۔وہ حقیقی بادشاہ ہر ایک نقص سے منزّہ بے عیب و سلامت ہے۔اور اسلام کا ہقیقی ثمرہ دارالسّلام ہے۔جس کا آسمان و زمین اور درو دیوار اور اس کے تمام یار و غمگسار طیّب ہوں گے۔اور ان کے میل جول میں سلامتی وسلام ہی ہو گا۔جیسے فرمایا۔(یونس:۱۱) (نور الدّین طبع سوم صفحہ۱،۲) قرآن مجید نے بھی اﷲ تعالیٰ کو اَلْمَلِکُ الْقُدُّوْسُ السَّلَامُ فرما کر اہلِ اسلام کو یقین دلایا ہے کہ اﷲ تعالیٰ ہر ایک الزام سے پاک ہے۔مگر دیانندی آریہ کہتے ہیں۔خدا ارواہ کا خالق نہیں۔اگر رزق دیتا ہے تو یہ صرف ارواح کے اعمال کی مزدوری ہے اور وہ ابایں کہ ارواح کا خالق نہیں۔مگر ان کے پیچھے ایسا پڑا ہے کہ اس کی دست بُرو سے انہیں کبھی ابدی نجات نہ ہو گی۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۱۵۹۔۱۶۰)