حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 64
سُوْرَۃ الْحَشْرِمَدَنِیَّۃٌ اس سورۃ نے سنّی و شیعہ کے جھگڑے دربارہ فِدک کا فیصلہ کر دیا۔کہ یہ وراثت میں آہی نہیں سکتا۔یہ مال فَئے سے ہے۔جس کے مصارف بتادئے۔مدینہ کے یہود نے بہت شرارتیں کیں۔کئی قتل کر دئے۔نبی کریمؐ کو اپنے محلہ میں بلا کر اوپر سے پتھر گرانے کی تجویز کی۔حضور نے ان کو خیبر میں جلاوطن کر دیا۔( اوّل الحشر) پھر حضرت عمرؓ کے زمانۂ خلافت میں وہاں سے بھی نکالے گئے۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر۹ صفحہ ۴۸۴) ۲،۳۔ ۔ ۔تورات میں بنی اسرائیل کو حکم تھا کہ سچّے نبی سے ڈریں۔لیکن ان لوگوں نے کفّارِ مکّہ کی طرح نبی برحق کی مخالفت کی۔وعیدِ الہٰی سے نڈر ہو گئے۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بنی نضیر (بنی اسرائیل) ویران اور تباہ ہو کر مدینے سے نکل گئے۔(فصل الخطاب حصّہ دوم طبع دوم صفحہ۳۳)