حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 587 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 587

اپنی حالت ردّی پر لے جائے۔کیونکہ وہ جیسا کہ اس سورۃ میں بیان کیا ہے۔خنّاس ہے یعنی انسان کو نیچے ہٹا نا چاہتا ہے، اور اس کو حالتِ رذیل میں ڈالنا چاہتا ہے۔یہ شیطان بعض انسانوں کی صورت میں ہیں اور بعص بد روحیں ہیں جو کہ انسان کو خراب حالت میں ڈالنے کے واسطے اس کے دل میں طرح طرح کے وساوس ڈالتی ہیں، جس کا ذکر اس سورہ شریفہ میں اس طرح سے ہے، یعنی لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتے ہیں۔ان سے پناہ مانگنے کے واسطے خدا نے یہ حالت میں پڑنے سے بچ جاوے۔اے خدا! تو اپنے فضل و کرم سے ہماری دستگیری فرما اور اس جماعت کے ممبروں کو نفسِ مطمئنّہ عطا فرما اور جو لوگ ہنوز اس سلسلہ میں داخل نہیں ہوئے ان کی بھی آنکھیں کھول! تاکہ وہ اس پاک راہ کو پہنچان کر اس کی صداقت کا فائدہ حاصل کریں اور خدا کی برگزیدہ جماعت میں داخل ہو کر رحمتِ الہٰی سے حصّہ وافر حاصل کریں! آمین ثم آمین!! امراضِ سینہ کا علاج: میں خیال کرتا ہوں کہ امراضِ سینہ مثلاً سِل۔کھانسی وغیرہ کے واسطے اس سورۂ شریفہ میں ایک دعا ہے۔کیونکہ آجکل ڈاکٹروں نے یہ تحقیقات کی ہے کہ پھیپھڑے میں ایک باریک کیڑے ہوتے ہیں جن کو جِرْمز کہتے ہیں۔جب وہ پیدا ہو جاتے ہیں تب پھیپھڑا زخمی ہو کر سِل کی بیماری اور کھانسی پیدا ہو جاتی ہے۔جنّ بھی ایک باریک اور مخفی شئے کو کہتے ہیں۔اس سورۃ میں ان اشیاء کے شر سے پناہ چاہی گئی ہے۔جو سینہ کے اندر ایک خرابی پیدا کرتے ہیں۔ناظرین اس کا تجربہ کریں۔لیکن صرف جنتر منتر کی طرح ایک دُعا کا پڑھنا اور پھونک دینا بے فائدہ ہے، سچّے دل کے ساتھ اور معنی کو یہ سورۃ بطور دُعا کے مریض اور اس کے معالج اور تیماردار پڑھیں اور مریض کے حق میں دُعا کریں تو اﷲ تعالیٰ غفور رحیم ہے اور بخشنے والا ہے۔میں اُمید کرتا ہوں کہ ایسے بیماروں کو اس کلامِ پاک کے ذریعہ شفا حاصل ہو۔واﷲ اعلم بالصواب۔اس سورۂ شریفہ کے شانِ نزول کے بارہ میں حدیث شریف میں آیا ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ آج کی رات مجھ پر اس قسم کی آیات نازل ہوئیں کہ ان جیسی مَیں نے کبھی نہیں دیکھیں وہ معوذ تین ہیں۔ابوسعید خدریؓ کہتے ہیں کہ رسولِ خدا صلی اﷲ علیہ وسلم جنّ وانس کی نظرِ بَد سے پناہ مانگا کرتے تھے، مگر جب معوذ تَیْنِ نازل ہوئیں تو آپؐ نے اور طرہ اس امر کے متعلق دعا کرنا چھوڑ دیا اور ہمیشہ ان الفاط میں دعا مانگتے تھے۔حصرت عائشہؐ فرماتی ہیں کہ جب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم بیمار ہوا کرتے تو ان دونوں سورتوں کو پڑھ پڑھ کر دَم کیا کرتے تھے۔(ضمیمہ اخبار۵ بدر قادیان ۹؍جنوری ۱۹۱۲ء)