حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 588 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 588

اس سورہ شریفہ میں کسی خاص مذہب پر کوئی خصوصیت سے حملہ نہیں۔جیسے اس پاک کتاب کی ابتدائی سورت سورۃ فاتحہ میں ایسی تعلیم اور دُعا ہے جو سماوی اور اخلاقی مذہب میں کسی مذہب پر ردّ نہیں۔۔۔۔(النّاس:۲تا۴) اس سورۂ شریفہ کی ابتداء میں باری تعالیٰ نے تین نام ظاہر فرمائے ہیں۔اور اس جلسہ ( جلسہ مذاہبِ عالم) کے پہلے سوال میں ہی ایسے تین امور کا ذکر ہے کہ جس کا فردًا فردًا تعلق ان تین ناموں سے ہے۔وہ تین انسان کی جسمانی۔اخلاقی اور روحانی حالت کا بیان ہے۔۔۔۔میں غور فرمائیے۔ابتداء میں انسان ایک جسم ہوتا ہے۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔(النحل:۷۹) اور بے ریب انسان کا بچہ جب ماں کے پیٹ سے نکلتا ہے تو بجُز اس کے کہ اس کو جسمانی ضرورتیں سب سے پہلے پیس اتی ہیں۔اور کن علوم کی اس کو ضرورت ہے اور بالکل ظاہر ہے کہ اگر مولیٰ کریم ربق العالمین انسان کی ربوبیت نہ فرماوے، اور چُوسنے پھر گلے سے اتارنے کا علم نہ بخشے، پھر ہضم کی نالیاں اس غذا پر تصرف نہ کریںگ پھر شریانوں میں اور پھیپھڑوں میں خون مصفّٰی ہو کر جُز وِ بدن نہ ہو تو انسانی نسو و نما کا کیا ٹھکانا ہے۔اسی طرح جسمانی غذا میں ماں کی چھاتیوں اور حیوانات کے عمدہ دودھ میسر نہ آویں تو نوزائیدہ انسان کی کی نسبت کسی کامیابی کی کیا امّید ہو سکتی ہے۔اسی طرح روشنی اور ہوائیں عمدہ طور پر اسے نہ پہنچیں تو انسان کی جاں بری کیونکر ممکن ہے۔صاحبان انسان کی اس حالت پر نظر کرو جو اُس کی نطفگی کی حالت میں لا حق ہے۔اور ہر انسان کے اس کمال استواری پر نظر کر جاو جس میں وہ اپنے دائرہ کمال کی تکمیل کرتا ہے اور پھر انصاف سے دیکھو کہ یہ تمام سامان کمالاتِ جسمانیہ اپنے اصول و فروغ سے کس نے عطا فرمائے۔تو آپ یقین فرمائیں گے کہ ایک رب النّاس جس نے اس کو ایک طرف جذب موادِ طیبّہ کی طاقتیں عطا فرمائیں۔دوسری طرف موادب طیبّہ کا بے انت خزانہ مہیّا فرما دیا۔چونکہ وہ ذات پاک طیّب اور ہر ایک خبث و نجاست سے منزّہ ہے۔انسان کے جسمانی حالات کی ترقی کے لئے بھی اس نے کیسے کیسے اسبابِ طیبّہ مہیا کر دئے ہیں۔جب انسان اپنی جسمانی حالت کی ایک حد تک تکمیل کر لیتا ہے تو اس کی عمدہ پرورش کے بعد انسان کے اخلاق کا نشو ونما ہوتا ہے۔کبھی اس کو انواع و اقسام کی خواہشیں پیدا ہوتی ہیں۔اس لئے رنگارنگ