حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 585
حدود اور آسمانی قضاء قدر کے امور کو بدل و جان قبول کر لیا ہے۔اور نہایت نیک نیتی اور تذلّل سے ان سب حکموں اور حدوں اور قانون اور تقدیروں کو بارادت تمام سر پر اٹھا لیا۔اور نیز وہ تمام صداقتیںاور پاک معارف جو اس کی وسیع قدرتوں کی معرفت کا ذریعہ اور اس کی ملکوت اور سلطنت کے علّو مرتبہ کو معلوم کرنے کے لئے ایک واسطہ اور اس کے آلاء اور نعماء پہچاننے کے ایک قوی رہبر ہیں۔بخوبی معلوم کر لیا ہے عبادات وغیرہ میں ان کا مقصودٗ محبوب اور معبود صرف اﷲ ہی ہیٗ جو کہ الٰہ النَّاس ہے۔انسان کے ان ہر سہ درجات اور حالات کی طرف اس آیت جمیں اشارہ کیا گیا ہے۔ان ہر سہ حالات کو صوفیاء نے اپنی تجربہ کردہ باتوں کے ذکر کے ساتھ عجیب عجیب پیرایوں میں بیان کیا ہے۔چنانچہ حافظ شیراز نے نفسِ لوّامہ کی مشکلات پر نگاہ کر کے اس مضمون کو اس شعر میں ادا کیا ہے۔؎ شبِ تاریک و بیم موج و گردابے چُنیں حائل کجا دانند حال ماسبکسارانِ ساحل ہا حافظ شیراز نے اس شعر میں انسان کی ان تین حالتوں کو ظاہر کیا ہے، اور اس کی تمثیل کے واسطے دریا اور اس کے دو کناروں کے نظارہ کو لیا ہیٗ کچھ لوگ دریا کے اس کنارے پر ہیں،کچھ اس کنارہ پر پہنچ گئے، کچھ کشتی میں بیٹھے ہوئے ہنوز اس فکر میں ہیں کہ اس کنارہ تک پہنچ جائیںگ ایک کنارہ ویران سا ہے، اس میں نہ کوئی شاندار مکان ہے اور نہ پھل پھول ہیں اور اس میں رہنے والے جاہل لوگ ہیں، جو دوسرے کنارے کی نعموتوں اور عمدہ اشیاء سے بے خبر ہیں، اور وہ نہیں جانتے کہ دوسرے کنارہ پر کیا کیا آرام کے ذرائع ہیں ، پس وہ اپنی حالت میں غافل ہیں۔اور ان کو یہ خواہش بھی نہیں کہ دوسری طرف جاویں، اور ان لوگوں میں جا کر شامل ہوویں جو دوسرے کنارے پر رہتے ہیں، بلکہ وہ اپنے موجودہ حال میں ویسے ہی چُپ جاپ بیٹھے ہیں، دوسرے کنارے پر وہ لوگ ہیں جو دریا اور اس کی تمام تکالیف اور مصائب کو جھِیل کر اپنے منزلِ مقصود تک پہنچ چکے ہیں اور اب آرام کے ساتھ بیٹھے ہیں ان کو کوئی دُکھ اور مصیبت نہیں ہے۔اور نہ ان کے واسطے وہ خطرات اور ہر وقت کا خوف ہے جو کشتی والوں کے لاحقِ حال ہوتا ہے بلکہ وہ ان تمام مشکلات میں سے گزر چکے ہیں، اور تمام مصائب کو عبور کر چکے ہیںگ اور ان کا نفس نفسِ مطمئنّہ ہے، اور پہلے لوگ وہ تھے جن کا نفس نفسِ امّارہ تھا، پس دریا کے دو کناروں پر دو قسم کے لوگ آباد ہیں، ایک کنارہ پر وہ ہیں جو نفسِ امّارہ رکھتے ہیں، اور دوسرے کنارہ پر وہ ہیں جو نفسِ مطمئنہ رکھتے ہیں۔حافظ شیراز نے ان ہر دو کو اپنے شعر میں سبک سار کہا ہے، کیونکہ