حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 584 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 584

دے دیتا ہے۔ہوا چلتی ہے۔تو مسلم اور غیر مسلم سب کو اپنا فائدہ پہنجا دیتی ہے، اس لحاظ سے خدا تعالیٰ کی ربوبیت عام ہے۔وہ عمام جہان کے لوگوں کا رب ہے، کوئی بڑا ہو یا چھوٹا ہو، امیر ہو یا غریب ہو۔دانا ہو یا بیوقوف ہو۔عالم ہو یا جاہل ہو، بادشاہ ہو یا رعایا ہو، ہر ایک کو اس کی ربوبیتِ عامہ سے حصّہ دیا جاتا ہیگ اس لحاظ سے وہ ربّ النّاس ہے۔درمیانہ درجہ کے لوگ جو درجہ ادنیٰ سے اوپر کے درجہ کے لوگ ہیں، وہ ہیں ،جن کو معرفتِ الہٰی کا شوق پیدا ہو گیا ہے، انہوں نے جان لیا ہے کہ نیکی عمدہ شئے ہے اور خواہس رکھتے ہیں کہ اپنی موجودہ حالت سے نکلیں اور ترقی کریں اور آگے قدم رکھیں۔بدیوں کو چھوڑیں، اور نیکیوں کو اختیار کریں۔لیکن ان کا نفس ہنوز ان پر غالب ہے، وہ بدی سے پرہیز کرتے ہیں، مگر بسبب کمزوری پھر بھی کسی نہ کسی وقت بدی میں گر جاتے ہیں۔اٹھتے ہیں، اور پھر گر جاتے ہیںگ پھر اُٹھتے ہیں اور پھر گر جاتے ہیں، یہی حالت ان کی ہوتی رہتی ہے۔وہ دل سے سچی توبہ کرتا ہے کہ اب آئندہ یہ کام نہ کروں گا، لیکن نفس کے جذبہ کے وقت پھر کر بیٹھتا ہے، اور خدا تعالیف کی غفّاری اور ستّاری کی طرف پھر جُھکتا ہے اور اس کی رحمت کے حضور میں فریادی ہوتا ہے، اور اپنی کمزوری کے سبب نالاں رہتا ہے اور شب و روز اس فکر میں سرگرداں پھرتا ہے، کہ کب وہ وقت آئے گا کہ پھر بدی اس کے قریب کبھی نہ آئے گی۔وہ اقرار کرتا ہے کہ مَیں ایک بادشاہِ حقیقی ( ملک النّاس) کی حکومت کے ماتحت ہوں اور اس کے قوانین کی فرماں برداری مجھ پر واجب ہے، اس واسطے وہ قواعدِ شرعیہ کی پابندی کے واسطے ہر وقت سعی کرتا رہتا ہے لیکن اپنی کمزوری اور اپنے ضعف کے سبب غلطی کر بیٹھتا ہے، اور اپنے بادشاہ سے معافی کا طلبگار ہوتا ہے، ایسے شخص کا نفس لوّامہ ہے، وہ غلطی کر بیٹھتا ہے لیکن اس علطی پر راضی نہیں رہتا بلکہ اپنے آپ کو ملامت کرتا ہے اور غمگین ہوتا ہے، اور افسوس کرتا ہے کہ مَیں نے کیوں ایسا کام کیا اور پھر توبہ کرتا ہے۔اور ہر دفعہ اس کی توبہ سچے دل کے ساتھ ہوتی ہے اور توبہ کے وقت وہ کبھی وہم نہیں رکھتا کہ دوبارہ یہ کام کریگا، اسی واسطے خدا تعالیٰ اس پر رحم کرتا ہے۔اور اس کی توبہ قبول کرتا ہے، اور اس کے گناہ بخش دیتا ہے۔اس سے بڑھ کر درجہ والے وہ لوگ ہیں،جو ہر طرح سے تمام گناہوں کو چھوڑ چکے ہیں۔اور ان کے نفسانی جذبات ٹھنڈے ہو جکے ہیں۔اور اب کوئی بدی ان کو دُکھ نہیں دیتی۔بلکہ وہ آرام اور اطمینان کے ساتھ اپنے خدا کی بندگی میں مصروف ہیں۔وہ خدا تعالیٰ کو ہی اپنا معبود اور مقصود اور محبوب ٹھہرا چکے ہیں اور اس کی عبادت اور محبت اور خوف اور رجا میں کوئی دوسرا شریک ان کے دل میں باقی نہیں رہا۔اور انہوں نے اس واحد خدا کی تقدیس اور تسبیح اور عبادت اور تمام عبودیت کے آداب اور احکام اور