حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 583 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 583

(آل عمران:۹) اے ہمارے رب بعد اس کے کہ تُو نے ہمیں ہدایت کی توفیق عطا فرمائی۔ہمارے دلوں کو کج نہ کر یعنی ایک دفعہ جس نیکی کو ہم حاصل کریں۔وہ استقامت کے ساتھ ہمارے اندر قائم رہے۔یہ سورۃ شریفہ قرآن شریف میں سب سے آخری دعا ہے کہ اے اﷲ تعالیٰ یہ قرآن جس کے پڑھنے کی تُو نے ہم کو توفیق دی ہے۔اب ایسا کہ کہ ہمارے دل اس پر ایمان کے واسطے ایسے پختہ رہیں کہ اس کلام کے متعلق کوئی وسوسہ اور بدخیال کبھی ہمارے دل میں نہ آنے پاوے۔اور ہم اس پر عمل کریں اور تیرے نیک بندوں میں شامل ہو جاویں۔قرآن شریف کے ذریعہ سے رحمان خدا نے کس قدر رہمت دنیا پر نازل فرمائی۔تمام احکامِ شرعیہ، گذشتہ بزرگوں کی نیک مثالیں، طریقِ دعا، غرض ہر شئے ضروری کی تعلیم دی گئی ہے۔اس سورہ شریفہ کے سروع میں انسان کا نام تین بار لیا گیا ہے۔اور ہر بار اﷲ تعالیٰ کا ایک جُدا نام اس پر رکھا گیا ہے۔یعنی پہلی دفعہ ربّ النّاس کہا گیا ہے۔دوسری بار ملک النّاس فرمایا ہے اور تیسری بار الٰہ النّاس مذکور ہوا ہے۔یہ ہرسہ صفات الہٰیہ انسان کی تین مختلف حالتوں کی طرف اور اﷲ تعالیٰ کے تین فیصانوں کی طرف جو انسان کی ان حالتوں پر وارد ہوتے ہیں اشارہ کرتی ہیں۔انسان بلحاظ اپنی روحانی ترقی یا تنزّل کے تین درجے رکھتا ہے۔سب سے ادنیٰ درجہ کا انسان وہ ہے جسے کچھ خبر نہیں کہ حصولِ نیکی اور حصولِ معرفت الہٰی کیا شئے ہے اور وہ کتنی بڑی نعمت ہے۔ایسے شخص کے واسطے نیکی بدی سب برابر ہیں۔اگر وہ بدی کرتا ہے تو اسے کبھی کچھ فکر نہیں ہوتا کہ مَیں بدی کرتا ہوں۔اس کا نفس اس پر نہ صرف غالب ہے۔بلکہ پوری طرح اس پر حکمران ہے، وہ نہیں جانتا کہ دین اور دین داری کیا لطف اپنے اندر رکھتی ہے اور نہ دینداروں کی محبت اختیار کرتا ہے اور نہ اس کو کبھی یہ خواہش ہی پیدا ہوتی ہیگ کہ دیندار بنے، وہ اپنی حالت میں مِثل ایک بے خبر کے پڑا ہے۔جس نے معرفت کا کبھی نام بھی نہیں سُنا۔یہ شخص نفسِ امّارہ کے ماتحت ہے، پر خدا تعالیٰ ان سب کے واسطے ربق النّاس ہے۔یعنی وہ سب کی پرورش کرتا ہے، جو لوگ خد تعالیٰ کو نہیں مانتے اور دہریہ ہیں ان سب کی پرورش کرتا ہے، گو ایسے لوگوں کے واسطے ایک وقت عذاب کا بھی بالآخر آ جاتا ہے۔مگر سردست وہ سب اﷲ تعالیٰ کی صفاتِ ربوبیت سے فائدہ حاصل کرتے ہیں، اس لحاظ سے وہ اﷲ تعالیٰ ربّ النّاس ہے۔جو لوگ نیکی کرتے ہیں، ان کی پرورش ہوتی ہے۔جو بدی کرتے ہیں ان کی پرورش ہوتی ہے، بارش آتی ہے تو نیک و بد سب کے کھیت کو سیراب کر جاتی ہے۔اور سورج نکلتا ہے تو کافر اور مومن سب کو روشنی