حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 54
’’ صرف پرمیشر ہی یہ تمام دنیا ہے۔جو کچھ ہو چکا ہے وہی تھا۔اور جو کچھ ہو گا وہی ہو گا‘‘ رگ وید بھاگ۲ سکت ۹۰ منتر دوم سُیُن اچارج کہتے ہیں ’’ جو کچھ گزشتہ زمانوں میں تھا۔پرمیشور تھا۔جو کچھ اب موجود ہے پرمیشر ہے۔آدمیوں کے جسم جواب موجود ہیں اور گزشتہ زمانوں میں زندہ تھے۔تمام پر میشور ہیں اور تھے۔جو کچھ آئندہ زمانوں اور دنیا بھی اس کے ساتھ بڑھتی ہے۔مایاؔ کے سبب سب چیزیں مختلف نظر آتی ہیں۔لاکن در اصل ہر ایک شئی پرمیسر ہے۔برہم کے تین حصّے اس دنیا سے پرے ہیں۔اس کا ایک حصّہ تمام دنیا ہے۔یہی تمام ہے جو اس کے ایک حصّہ سے بنا ہے منتر ۴‘‘ پھر سنو! تنقیہ دماغ کا مصنّف آریہ کیا کہتا ہے :۔’’ بموجب قرآن کے صرف اس قدر توحید ہے۔کہ پیدا کرنے والا ایک ہے۔دو نہیں ہیں۔مگر بمقابلہ خدا کے دوسری موجودات مخلوق کے وجود سے انکار نہیں کیا گیا۔گو اس نے ہی گھڑے پیدا کئے ہوں۔مگر اس کے مقابلہ میں اسے علیحدہ موجود ہونا اور تا ابد موجود رہنا،اہل اسلام کے یہاں ثابت ہے۔جب اسے علیحدہ دوسری چیز کا موجود ہونا ثابت و ظاہر ہے۔تو پھر توحید کہاں؟ یہ تو ڈوئی ہو گئی‘‘ تنقیہ صفحہ ۲۸ اب میں ان دونوں آیات کا مطب سناتا ہوں۔مگر بیان سروع کرنے سے قبل مختصر سی تمہید کا لکھنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔جب دو یا کئی چیزیںباہم کسی امر میں شریک ہوتی ہیں اور کسی امر میں مختلف ہوتی ہیں تو ظاہر ہے۔کہ امرِ مشترک کے احکام میں ان مشترکہ اشیاء کو اتحاد ہو گا۔اور جن جن باتوں میں ان چیزوں کو باہمی اختلاف ہوتا ہے ان باتوں میں جو جو احکام ہوں گے ان میں بھی اختلاف ہو گا۔مثلاً حیوانات و نباتات جسمیت اور نمو میں باہم شریک ہیں۔مگر حیوانات تحرّک بالارادہ۔خورد۔نوش وغیرہ اوصاف میں نباتات سے ممتاز ہیں۔پس حیونات و نباتات کو جسمیت اور نموکے احکام میں بھی شرکت ہو گی۔مگر خورد۔نوش۔جماع وغیرہ احکام میں حیوانات اور نباتات میں اشتراک نہ ہو گا بلکہ حیوانات کو ان باتوں اور ان کے احکامات میں امتیاز و خصوصیت ہو گی۔اسی طرح انسان و حیوان کے درمیان کھانے، جماع کی خواہش میں جس قدر اشتراک ہے اسی قدر کھانے، پینے۔جماع کے احکام میں بھی اشتراک ہو گا۔مگر انسان، ترقی سطوت، جبروت، نئے علوم و فنون کی تحصیل اور نئے علوم کو اپنے ابنائے جنس کے سکھلا دینے میں حیوان سے ممتاز ہے۔ان اشیاء کے احکام میں بھی حیوان سے ممتاز ہو گا۔ایسے ہی ہادی، رسولوں اور عامّہ آدمیوں میں گو عام احکامِ بشریت کے لحاظ سے اشتراک ہوتا ہے۔رسولوں کا گروہ بخلاف اور آدمیوں کے، الہٰی مُلہمَ، مصلحِ قوم، مویّد من اﷲ ہوتا ہے۔اس