حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 53 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 53

الْاَخِرُ لَیْسَ بَعْدَہٗ شَیْیئٌ یعنی ہر چیز کی فنا اور زوال کے بعد اُس کی ذات پاک موجود ہے۔ھُوَ الظَّاھِرُ لَیْسَ فَوْقَہٗ شَیْیئٌ یعنی ہر چیز سے اُوپر اور غالب وہی ہے۔اُس سے اُوپر اور غالب کوئی شَے نہیں۔ھُوَ الْبَاطِنُ لَیْسَ دُوْنَہٗ شَیْیئٌ وہی پوشیدہ ہے۔سوا اس کے کوئی چیز نہیں ہے۔یہ تفسیر خوب واضح کرتی ہے کہ زبانِ عرب میں ان الفاظ کا مفہوم اور مراد یہ ہے۔اور وہی معتبر ہے (فصل الخطاب حصّہ اوّل اطبع دوم صفحہ ۱۳۹۔۱۴۰) میں نے یہ دو آیتیں قائلین وحدۃ الوجود سے استدلال میں سُنی ہیں۔اوّل: ۔(ذاریات : ۲۲)… دوسری آیت شریف:  مگر جب ان سے دریافت کیا گیا کہ جس چیز کے اوّل و آخر وہ ہو۔وہ چیز آپ کیا ہوئی؟اور جس چیز کا ظاہر و باطن وہ ہو۔وہ خود کیا ہوئی؟ تو عوام مدعیان و حدۃ الوجود ساکت رہ جاتے ہیں۔ہاں البتہ وید میں مسئلہ وحدتب وجود کی بنیاد مستحکم رکھی گئی ہے۔اس لئے کہ آریہ ورت میں وحدت وجود کے مسئلہ کو ویدانت کہتے ہیں۔اور خود یہ لفظ ہی ظاہر کئے دیتا ہے کہ اس کی اصل کہاں سے ہے۔اور حصرت مرزا صاحب کے ’’شحنۂ حق اور سُرمہ چشم آریہ‘‘ کے جواب میں ایک میرٹھ کے آریہ صاحب جو چھاؤنی نصیر آباد ضلع اجمیر کی عدالت میں سر رشتہدار ہیں۔اپنی کتاب ’’ تنقیہ‘‘ میں فرماتے ہیں۔’’ وہی پر آتما اپنی اچھّا سے بہوروپ ہو گیا۔یعنی رب سکلوں میں ظاہر ہوا۔یہ تیسرے اپنشد کا بچن ہے۔‘‘ (انتہٰی تنقیہ نمبر۷) پھر صفحہ نمبر ۸ میں کہا ہے۔’’ اس تمام عالم مجسّم کا ظہور نمت کا رن پر کرتی یعنی علت فاعلی پرمیشر سے ہے ‘‘ (انتہٰی) پھر صفحہ نمبر ۲۷ میں لکھا ہے۔’’ یہ بھی واضح ہو کہ ویدانتی یعنی آریوں کے فلاسفر پرمیشر کو واحد لاوجود مانتے ہیں یعنی جو کچھ ہے اﷲ ہی اﷲ ہے۔ماسوا کچھ نہیں۔صفحہ نمبر۳۰میں لکھا ہے۔’’ ارجن سرشٹی کا آد ( ابتداء)۔اور مدّہ (اوسط)۔اور انت (آخر) مَیں ہوں۔ودیاؤں (علم)میں برہم ودیا ( عرفان الہٰی ) چرچا ( تذکرہ) کرنے والوں میں یاد مَیں ہوں‘‘ مدّہ کا لفظ جس کے معنے اوسط کے ہیں۔بہت ہی توجہ کے قابل ہے۔